مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ ابْتِدَاءِ أَمْرِ الْأَنْصَارِ ، وَالْبَيْعَةِ عَلَى الْحَرْبِ باب: انصار کے معاملے کے آغاز کا بیان اور ان کا جنگ پر بیعت کرنا
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْرِضُ نَفْسَهُ فِي كُلِّ سَنَةٍ عَلَى قَبَائِلَ مِنَ الْعَرَبِ ; أَنْ يُؤْوُوهُ إِلَى قَوْمِهِمْ حَتَّى يُبَلِّغَ كَلَامَ اللَّهِ وَرِسَالَاتِهِ ، وَلَهُمُ الْجَنَّةُ فَلَيْسَتْ قَبِيلَةٌ مِنَ الْعَرَبِ تَسْتَجِيبُ لَهُ حَتَّى أَرَادَ اللَّهُ إِظْهَارَ دِينِهِ ، وَنَصْرَ نَبِيِّهِ ، وَإِنْجَازَ مَا وَعَدَهُ ، سَاقَهُ اللَّهُ إِلَى هَذَا الْحَيِّ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَاسْتَجَابُوا لَهُ وَجَعَلَ اللَّهُ لِنَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَارَ هِجْرَةٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ ، وَجَمَاعَةٌ ، وَضِعَّفَهُ النَّسَائِيُّ ، وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال عرب کے مختلف قبائل کے سامنے دعوت دیا کرتے تھے اور یہ کہتے تھے : وہ لوگ اپنی قوم کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لے جائیں ، تاکہ آپ اللہ کے کلام اور اس کی رسالت کی تبلیغ کر سکیں ، پھر ان لوگوں کو جنت نصیب ہو گی ، عربوں کے کسی بھی قبیلے نے آپ کی اس پیشکش کو قبول نہیں کیا ، یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو غالب کرنے کا اور اپنے نبی کی مدد کرنے کا اور اپنے وعدے کو پورا کرنے کا ارادہ کیا ، تو انصار کا ایک گروہ آپ کے پاس آ گیا ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول کیا ، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے ہجرت کا مقام ( مدینہ منورہ ) بنا دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عمر عمری ہے ، جسے امام أحمد اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔