مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ ابْتِدَاءِ أَمْرِ الْأَنْصَارِ ، وَالْبَيْعَةِ عَلَى الْحَرْبِ باب: انصار کے معاملے کے آغاز کا بیان اور ان کا جنگ پر بیعت کرنا
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَى قَبَائِلِ الْعَرَبِ قَبِيلَةً قَبِيلَةً فِي الْمَوْسِمِ مَا يَجِدُ أَحَدًا يُجِيبُهُ حَتَّى جَاءَ اللَّهُ بِهَذَا الْحَيِّ مِنَ الْأَنْصَارِ لَمَّا أَسْعَدَهُمُ اللَّهُ ، وَسَاقَ لَهُمْ مِنَ الْكَرَامَةِ فَآوَوْا وَنَصَرُوا ، فَجَزَاهُمُ اللَّهُ عَنْ نَبِيِّهِمْ خَيْرًا ، وَاللَّهِ مَا وَفَّيْنَا لَهُمْ كَمَا عَاهَدْنَاهُمْ عَلَيْهِ ، إِنَّا كُنَّا قُلْنَا لَهُمْ : نَحْنُ الْأُمَرَاءُ وَأَنْتُمُ الْوُزَرَاءُ ، وَلَئِنْ بَقِيَتْ إِلَى رَأْسِ الْحَوْلِ لَا يَبْقَى لِي غُلَامٌ إِلَّا أَنْصَارِيٌّ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَحَسُنَ إِسْنَادُهُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ شَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حج کے موقع پر ایک ، ایک قبیلے کے پاس جا کر انہیں دعوت دیا کرتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انصار کے گروہ کو لے آیا ، جب اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے سعادت مندی طے کر دی ، اور ان کے لئے عزت کو لے آیا ، تو انہوں نے ساتھ دینے کا وعدہ بھی کیا اور مدد کرنے کا وعدہ بھی کیا ، تو اللہ تعالیٰ ان کے نبی کے حوالے سے انہیں جزائے خیر عطا کرے ، اللہ کی قسم ہم نے ان کے ساتھ جو طے کیا تھا ، اسے اس طرح پورا نہیں کیا ، ہم ان سے یہ کہا: کرتے تھے کہ ہم امیر ہوں گے اور تم وزیر ہو گے ، اگر میں ایک سال تک باقی رہ گیا ، تو میرا کوئی غلام باقی نہیں رہے گا البتہ انصاری کا معاملہ مختلف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن شبیب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔