مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ ابْتِدَاءِ أَمْرِ الْأَنْصَارِ ، وَالْبَيْعَةِ عَلَى الْحَرْبِ باب: انصار کے معاملے کے آغاز کا بیان اور ان کا جنگ پر بیعت کرنا
حدیث نمبر: 9878
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مِنَ الْعَقَبَةِ ، وَقَدْ أَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُوَافُوهُ سَبْعُونَ رَجُلًا الْعَامَ الْمُقْبِلَ أَقَمْنَا سَنَةً يَمْشِي أَحَدُنَا إِلَى صَاحِبِهِ بِالسَّمْعِ وَالرَّمْلِ وَالْمَطْعَمِ حَتَّى وَافَاهُ مِنَّا سَبْعُونَ رَجُلًا . . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ وَثَّقَهُ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عقبہ ( یعنی بیعت عقبہ ) میں سے جب بارہ افراد آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا کہ اگلے سال وہ ستر افراد آئیں ، تو ہم ایک سال تک یوں ٹھہرے رہے کہ ہم میں سے کوئی ایک شخص اپنے ساتھی کے پاس فرمانبرداری ، رمل ، اور کھانے کی چیز لے کر جاتا تھا ، یہاں تک کہ ہم میں سے ستر افراد پورے ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے جسے حجاج بن شاعر نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔