مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْبَيْعَةِ عَلَى الْإِسْلَامِ الَّتِي تُسَمَّى بَيْعَةَ النِّسَاءِ باب: اسلام پر بیعت جسے خواتین کی بیعت کا نام دیا گیا ہے
وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ ذَهَبَ بِهَا وَبِأُخْتِهَا هِنْدٍ يُبَايِعَانِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا اشْتَرَطَ عَلَيْهِنَّ قَالَتْ هِنْدٌ : أَوَتَعْلَمُ فِي نِسَاءِ قَوْمِكَ مِنْ هَذِهِ الْهِنَةِ شَيْئًا ؟ فَقَالَ أَبُو حُذَيْفَةَ : بَايَعَتْهُ فَهَكَذَا يَشْتَرِطُ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَوَثَّقَهُ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ .
سیدہ فاطمہ بنت عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا ابوحذیفہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ انہیں اور ان کی بہن ہند کو ساتھ لے کر گئے تاکہ وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر لیں ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر شرائط عائد کیں ، تو ہند نے کہا: کیا آپ اپنی قوم کی خواتین میں سے کسی کے بارے میں جانتے ہیں کہ اس نے ان میں سے کسی جرم کا ارتکاب کیا ہو ؟ تو سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم ان کی بیعت کر لو ! وہ اسی طرح شرط عائد کرتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے اور وہ متروک ہے ، حجاج بن شاعر نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔