مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْبَيْعَةِ عَلَى الْإِسْلَامِ الَّتِي تُسَمَّى بَيْعَةَ النِّسَاءِ باب: اسلام پر بیعت جسے خواتین کی بیعت کا نام دیا گیا ہے
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ : أَنَا مِنَ النِّسْوَةِ اللَّاتِي أَخَذَ عَلَيْهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : وَكُنْتُ جَارِيَةً نَاهِدًا جَرِيئَةً عَلَى مَسْأَلَتِهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ابْسُطْ يَدَكَ حَتَّى أُصَافِحَكَ فَقَالَ : " إِنِّي لَا أُصَافِحُ النِّسَاءَ ، وَلَكِنْ آخُذُ عَلَيْهِنَّ مَا أَخَذَ اللَّهُ عَلَيْهِنَّ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں ان خواتین میں سے ایک ہوں ، جن سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت لی تھی ، راوی خاتون کہتی ہیں : میں کم عمر لڑکی تھی اور آپ سے سوال کرنے کے بارے میں جرات رکھتی تھی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اپنا ہاتھ آگے کیجئے ! تاکہ میں آپ کے ساتھ مصافحہ کروں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں خواتین کے ساتھ مصافحہ نہیں کرتا ہوں ، میں ان سے وہ عہد لیتا ہوں ، جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لینا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن حکم بن ابان ہے اور وہ متروک ہے ۔