مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْبَيْعَةِ عَلَى الْإِسْلَامِ الَّتِي تُسَمَّى بَيْعَةَ النِّسَاءِ باب: اسلام پر بیعت جسے خواتین کی بیعت کا نام دیا گیا ہے
وَعَنْ عَزَّةَ بِنْتِ خَابِلٍ أَنَّهَا أَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَايَعَهَا عَلَى أَنْ لَا تَزِنِينَ ، وَلَا تَسْرِقِينَ ، وَلَا تَئِدِينَ فَتُبْدِينَ أَوْ تُخْفِينَ ، قُلْتُ : أَمَّا الْوَأْدُ الْمُبْدَى فَقَدْ عَرَفْتُهُ ، وَأَمَّا الْوَأْدُ الْخَفِيُّ فَلَمْ أَسْأَلْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ يُخْبِرْنِي ، وَقَدْ وَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهُ إِفْسَادُ الْوَلَدِ ، فَوَاللَّهِ لَا أُفْسِدُ لِي وَلَدًا أَبَدًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مَسْعُودٍ الْكَعْبِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْهَا ، وَلَمْ أَعْرِفْ مَسْعُودًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدہ عزہ بن خابل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ بیعت لی کہ تم زنا نہیں کرو گی ، تم چوری نہیں کرو گی ، تم ظاہری یا پوشیدہ طور پر زندہ درگور نہیں کرو گی ۔ راوی خاتون کہتی ہیں : جہاں تک ظاہری طور پر زندہ درگور کرنے کا تعلق ہے ، تو اس کا تو مجھے پتہ ہے ، لیکن پوشیدہ طور پر زندہ درگور کرنے کا جہاں تک تعلق ہے ، تو اس بارے میں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال نہیں کیا تھا اور نہ ہی آپ نے مجھے اس بارے میں بتایا ، لیکن میرے ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ اس سے مراد بچے کو ماں کے پیٹ میں ) ضائع کرنا ہے ، اللہ کی قسم ! میں اپنے بچے کو کبھی خراب نہیں کروں گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر اس کی مانند نقل کی ہے ، عطاء بن مسعود کعبی کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے ، اس خاتون سے منقول ہے ، میں مسعود نامی راوی سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔