مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ خُرُوجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الطَّائِفِ ، وَعَرْضِهِ نَفْسَهُ عَلَى الْقَبَائِلِ باب: نبی اکرم ﷺ کا طائف کی طرف تشریف لے جانا اور خود کو مختلف قبائل کے سامنے لانا
وَعَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَخِي بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ أَبُو الْحَيْسَرِ أَنَسُ بْنُ نَافِعٍ مَكَّةَ وَمَعَهُ فِتْيَةٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ فِيهِمْ إِيَاسُ بْنُ مُعَاذٍ ، يَلْتَمِسُونَ الْحِلْفَ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَى قَوْمِهِمْ مِنَ الْخَزْرَجِ ، سَمِعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَاهُمْ فَجَلَسَ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ لَهُمْ : " هَلْ لَكُمْ إِلَى خَيْرٍ مِمَّا جِئْتُمْ إِلَيْهِ ؟ " . قَالُوا : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : " أَنَا رَسُولُ اللَّهِ بَعَثَنِي إِلَى الْعِبَادِ أَدْعُوهُمْ إِلَى أَنْ يَعْبُدُوهُ ، وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَأَنْزَلَ عَلَيَّ كِتَابًا " . ثُمَّ ذَكَرَ الْإِسْلَامَ ، وَتَلَا عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ ، فَقَالَ إِيَاسُ بْنُ مُعَاذٍ وَكَانَ غُلَامًا حَدَثًا : أَيْ قَوْمِ ، هَذَا وَاللَّهِ خَيْرٌ مِمَّا جِئْتُمْ إِلَيْهِ قَالَ : فَأَخَذَ أَبُو الْحَيْسَرِ أَنَسُ بْنُ نَافِعٍ حَفْنَةً مِنَ الْبَطْحَاءِ فَضَرَبَ بِهَا وَجْهَ إِيَاسِ بْنِ مُعَاذٍ ، وَقَالَ : دَعْنَا عَنْكَ ، فَلَعَمْرِي لَقَدْ جِئْنَا لِغَيْرِ هَذَا ، قَالَ : فَصَمَتَ إِيَاسٌ ، وَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهُمْ ، وَانْصَرَفُوا إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَكَانَتْ وَقْعَةُ بُعَاثٍ بَيْنَ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ قَالَ : ثُمَّ لَمْ يَلْبَثْ إِيَاسُ بْنُ مُعَاذٍ أَنْ هَلَكَ ، قَالَ مَحْمُودُ بْنُ لَبِيدٍ : فَأَخْبَرَنِي مَنْ حَضَرَهُ مِنْ قَوْمِي أَنَّهُ لَمْ يَزَالُوا يَسْمَعُونَهُ يُهَلِّلُ اللَّهَ ، وَيُكَبِّرُهُ ، وَيَحْمَدُهُ ، وَيُسَبِّحُهُ حَتَّى مَاتَ ، فَمَا كَانُوا يَشُكُّونَ أَنَّ قَدْ مَاتَ مُسْلِمًا لَقَدْ كَانَ اسْتَشْعَرَ الْإِسْلَامَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ حِينَ سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا سَمِعَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ ، جن کا تعلق بنوعبداشہل سے ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : جب ابوحیسر انس بن نافع مکہ آیا ، تو اس کے ساتھ بنوعبداشہل سے تعلق رکھنے والے کچھ نوجوان بھی تھے ، جن میں ایک ایاس بن معاذ تھے ، وہ لوگ خزرج قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف قریش سے حلیف بننے کا معاہدہ کرنا چاہتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے بارے میں سنا ، تو آپ ان کے پاس تشریف لائے ، آپ ان کے پاس آ کر بیٹھے اور ان سے فرمایا : تم جس چیز کی طرف آئے ہو ، کیا تمہیں اس سے زیادہ بہتر چیز میں دلچسپی ہے ؟ انہوں نے دریافت کیا : وہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اللہ کا رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے مجھے بندوں کی طرف مبعوث کیا ہے ، تاکہ میں ان لوگوں کو اس بات کی طرف دعوت دوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور وہ کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتاب بھی نازل کی ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی تعلیمات کا ذکر کیا ، اور قرآن کی تلاوت ان لوگوں کے سامنے کی ، تو ایاس بن معاذ ، جو ایک نوجوان تھے ، انہوں نے یہ کہا: اے قوم ! اللہ کی قسم یہ چیز اس سے زیادہ بہتر ہے جس کی خاطر تم آئے ہو ، تو ابوحیسر انس بن نافع نے مٹھی میں مٹی لی اور وہ ایاس بن معاذ کے چہرے پر ماری اور بولے : تم ہمیں چھوڑ دو ! مجھے اپنی زندگی کی قسم ! ہم کسی اور کام کے لئے آئے ہیں ، تو ایاس خاموش ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس سے اٹھ گئے ، پھر وہ لوگ مدینہ منورہ چلے گئے ، اس کے بعد اوس اور خزرج قبیلے کے درمیان جنگ بعاث کا معاملہ پیش آیا ، اس کے کچھ عرصے بعد ایاس بن معاذ ہلاکت کا شکار ہو گئے ۔ سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میری قوم کے جو افراد ان کے آخری وقت میں ان کے پاس موجود تھے ، انہوں نے یہ بات بتائی ہے کہ وہ مسلسل اللہ تعالیٰ کی معبودیت اور اس کی کبریائی کا اعتراف کرتے رہے ، اس کی حمد اور پاکی بیان کرتے رہے یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا ، انہیں اس بارے میں کوئی شک نہیں تھا کہ اُن کا انتقال مسلمان ہونے کے عالم میں ہوا تھا ، کیونکہ جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی آپ کی تبلیغ سنی تھی ، تو انہیں اسلام کا شعور حاصل ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔