مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ خُرُوجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الطَّائِفِ ، وَعَرْضِهِ نَفْسَهُ عَلَى الْقَبَائِلِ باب: نبی اکرم ﷺ کا طائف کی طرف تشریف لے جانا اور خود کو مختلف قبائل کے سامنے لانا
وَعَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ قَالَ : إِنِّي لَمَعَ أَبِي ، شَابٌّ ، أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتْبَعُ الْقَبَائِلَ ، وَوَرَاءَهُ رَجُلٌ أَحْمَرُ وَضِيءٌ ذُو جُمَّةٍ ، يَقِفُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْقَبِيلَةِ يَقُولُ : " يَا بَنِي فُلَانٍ ، إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ ، آمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ ، وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَأَنْ تُصَدِّقُونِي وَتَمْنَعُونِي ، حَتَّى أُنَفِّذَ عَنِ اللَّهِ مَا بَعَثَنِي بِهِ " . فَإِذَا فَرَغَ مِنْ مَقَالَتِهِ ، قَالَ الْآخَرُ مِنْ خَلْفِهِ : يَا بَنِي فُلَانٍ ، إِنَّ هَذَا يُرِيدُ مِنْكُمْ أَنْ تَسْلَخُوا اللَّاتَ وَالْعُزَّى ، وَحُلَفَاءَكُمْ مِنَ الْحَيِّ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ أَقْيَشَ إِلَى مَا جَاءَ بِهِ مِنَ الْبِدْعَةِ وَالضَّلَالَةِ ، فَلَا تَسْمَعُوا لَهُ ، وَلَا تَتَّبِعُوهُ ، فَقُلْتُ لِأَبِي : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : هَذَا عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ ، وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طُرُقٌ فِيمَا أُوذِيَ بِهِ سَيِّدُنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَعْضُهَا صَحِيحٌ . ¤سیدنا ربیعہ بن عباد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے ساتھ تھا ، میں ایک نوجوان تھا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ مختلف قبائل کے پاس تشریف لے جاتے تھے ، آپ کے پیچھے ایک سرخ رنگ کا شخص موجود ہوتا تھا ، جس کا چہرہ خوبصورت تھا اور اس نے بال بڑے رکھے ہوئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی قبیلے کے پاس ٹھہرتے اور یہ فرماتے تھے : اے بنو فلاں ! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں ، میں تمہیں یہ حکم دیتا ہوں کہ تم اس کی عبادت کرو اور تم کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور تم میری تصدیق کرو اور تم میرا بچاؤ کرو ، تاکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جن چیزوں کے ہمراہ بھیجا ہے ، میں اُن کا نفاذ کروا سکوں ، جب آپ اپنی گفتگو سے فارغ ہوتے تھے ، تو آپ کے پیچھے موجود شخص یہ کہتا تھا : اے بنوفلاں ! یہ شخص تم سے یہ چاہتا ہے کہ تم لوگ لات اور عزی کو چھوڑ دو ، اور بنو مالک بن اقیش سے تعلق رکھنے والے ، اپنے قبیلے کے حلیفوں کو چھوڑ دو ، اور اس چیز کی طرف آ جاؤ ، جو بدعت اور گمراہی یہ لے کر آیا ہے ، تو تم اس کی بات نہ سنو ، اور اس کی پیروی نہ کرو ، ( راوی بیان کرتے ہیں : ) میں نے اپنے والد سے دریافت کیا : یہ کون شخص ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : یہ ان کا چچا ، ابولہب ہے ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، یحیی بن معین نے ایک روایت کے مطابق اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس سے پہلے اس روایت کے مختلف طرق گزر چکے ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچانے سے متعلق باب میں گزرے ہیں ، اس کی بعض اسناد صحیح ہیں ۔