حدیث نمبر: 9856
عَنْ جَرِيرٍ قَالَ : بَايَعْنَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى مِثْلِ مَا بَايَعَ عَلَيْهِ النِّسَاءَ ، مَنْ مَاتَ مِنَّا وَلِمَ يَأْتِ شَيْئًا مِنْهُنَّ ضَمِنَ لَهُ الْجَنَّةَ ، وَمَنْ مَاتَ مِنَّا وَقَدْ أَتَى شَيْئًا مِنْهُنَّ ، وَقَدْ أُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ فَهُوَ كَفَّارَةٌ ، وَمَنْ مَاتَ مِنَّا وَقَدْ أَتَى شَيْئًا مِنْهُنَّ ، فَسَتَرَ عَلَيْهِ ، فَعَلَى اللَّهِ حِسَابُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَيْفُ بْنُ هَارُونَ ، وَثَّقَهُ أَبُو نُعَيْمٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت انہی امور کے حوالے سے کی تھی ، جن امور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین سے بیعت لی تھی اور یہ طے پایا تھا ) کہ ہم میں سے جو شخص مر جائے اور اس نے ان ( گناہوں میں سے ) کسی کا ارتکاب نہ کیا ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے جنت کی ضمانت دی تھی ، اور ہم میں سے کوئی شخص اگر ایسی حالت میں مر جائے کہ اس نے ان میں سے کسی ایک ( گناہ ) کا ارتکاب کیا ہو اور اس پر حد بھی قائم ہو چکی ہو ، تو وہ ( حد کا جاری ہونا ) کفارہ بن جائے گا اور ہم میں سے جو شخص ایسی حالت میں مر جائے کہ اس نے ان میں سے کسی جرم کا ارتکاب کیا ہو ، اور اللہ تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی کر لی ہو ، تو اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سیف بن ہارون ہے ، جسے ابونعیم نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9856
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2260)»