حدیث نمبر: 9853
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْرِضُ نَفْسُهُ عَلَى النَّاسِ بِالْمَوْقِفِ ، فَيَقُولُ : " هَلْ مِنْ رَجُلٍ يَحْمِلُنِي إِلَى قَوْمِهِ ، فَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ مَنَعُونِي أَنْ أُبَلِّغَ كَلَامَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ " . فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ هَمْدَانَ ، فَقَالَ : " مِمَّنْ أَنْتَ ؟ " . فَقَالَ الرَّجُلُ : مِنْ هَمْدَانَ ، فَقَالَ : " هَلْ عِنْدَ قَوْمِكَ مِنْ مَنْعَةٍ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ خَشِيَ أَنْ يَخْفِرَهُ قَوْمُهُ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : آتِيهِمْ أُخْبِرُهُمْ ثُمَّ آتِيكَ مِنْ قَابِلٍ قَالَ : " نَعَمْ " . فَانْطَلَقَ وَجَاءَ وَفْدُ الْأَنْصَارِ فِي رَجَبٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حج کے موقع پر ، مختلف لوگوں کے پاس تشریف لے جاتے تھے اور یہ فرماتے تھے : کیا کوئی شخص مجھے اپنی قوم کے پاس لے جائے گا ؟ کیونکہ قریش تو مجھے اس بات سے روکتے ہیں کہ میں اپنے پرودگار کے کلام کی تبلیغ کروں ، ہمدان قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آپ کے پاس آیا ، آپ نے دریافت کیا : تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ اس نے جواب دیا : ہمدان سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تمہاری قوم کے پاس مضبوط حیثیت ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! پھر اس شخص کو یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں اس کی قوم اس کی عہد شکنی نہ کرے ، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: میں اُن لوگوں کے پاس جا کر انہیں اس بارے میں بتاؤں گا ، پھر میں اگلے سال آپ کے پاس آؤں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے پھر وہ شخص چلا گیا اور پھر رجب کے مہینے میں انصار کا وفد آ گیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9853
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (390/3)»