مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ خُرُوجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الطَّائِفِ ، وَعَرْضِهِ نَفْسَهُ عَلَى الْقَبَائِلِ باب: نبی اکرم ﷺ کا طائف کی طرف تشریف لے جانا اور خود کو مختلف قبائل کے سامنے لانا
وَعَنْ رَقِيقَةَ قَالَتْ : لَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْتَغِي النَّصْرَ بِالطَّائِفِ ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَأَمَرَتْ لَهُ بِشَرَابٍ مِنْ سَوِيقٍ ، فَشَرِبَ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَعْبُدِي طَاغِيَتَهُمْ ، وَلَا تَصَلِّي إِلَيْهَا " . قُلْتُ : إِذًا يَقْتُلُونِي ! قَالَ : " فَإِذَا قَالُوا لَكِ ذَلِكَ ، فَقُولِي : رَبُّ هَذِهِ الطَّاغِيَةِ ، فَإِذَا صَلَّيْتِ فَوَلِّيهَا ظَهْرَكِ " . ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ عِنْدِهِمْ ، قَالَتْ بِنْتُ رَقِيقَةَ : فَأَخْبَرَنِي أَخَوَايَ سُفْيَانُ وَوَهَبُ ابْنَيْ قَيْسِ بْنِ أَبَانَ ، قَالَا : لَمَّا أَسْلَمَتْ ثَقِيفٌ خَرَجْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا فَعَلَتْ أُمُّكُمَا ؟ " . قُلْنَا : هَلَكَتْ عَلَى الْحَالِ الَّتِي تَرَكْتَهَا قَالَ : " لَقَدْ أَسْلَمَتْ أُمُّكُمَا إِذًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤سیدہ رقیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب طائف سے واپس تشریف لائے ، تو آپ اُن ( خاتون ) کے پاس آئے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ستو کا مشروب تیار کرنے کا حکم دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پی لیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : تم ان کے معبودوں کی عبادت نہ کرو اور نہ ہی ان کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھو ، میں نے کہا: ایسی صورت میں وہ مجھے قتل کر دیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر وہ تمہیں اس بارے میں کچھ کہیں ، تو تم یہ کہنا کہ اس طاغہ کے پروردگار کے لئے اور جب تم نماز ادا کرو ، تو اپنی پشت اس کی طرف کر لینا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس سے تشریف لے گئے ۔ سیدہ رقیقہ رضی اللہ عنہا کی صاحبزادی بیان کرتی ہیں : میرے دو بھائیوں ، سفیان بن قیس بن ابان اور وہب بن قیس بن ابان نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ جب ثقیف قبیلے کے لوگ مسلمان ہو گئے ، تو ہم نکل کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، آپ نے دریافت کیا : تمہاری ماں کا کیا حال ہے ؟ ہم نے کہا: اُن کا انتقال اسی حالت میں ہوا تھا ، جس پر آپ نے انہیں چھوڑا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس صورت میں ، تمہاری ماں مسلمان تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔