مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ خُرُوجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الطَّائِفِ ، وَعَرْضِهِ نَفْسَهُ عَلَى الْقَبَائِلِ باب: نبی اکرم ﷺ کا طائف کی طرف تشریف لے جانا اور خود کو مختلف قبائل کے سامنے لانا
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ : لَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو طَالِبٍ خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الطَّائِفِ مَاشِيًا عَلَى قَدَمَيْهِ ، يَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ ، فَلَمْ يُجِيبُوهُ ، فَانْصَرَفَ فَأَتَى ظِلَّ شَجَرَةٍ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَشْكُو إِلَيْكَ ضَعْفَ قُوَّتِي ، وَهَوَانِي عَلَى النَّاسِ ، أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ أَنْتَ ، أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ إِلَى مَنْ تَكِلُنِي إِلَى عَدُوٍّ يَتَجَهَّمُنِي ؟ أَمْ إِلَى قَرِيبٍ مَلَّكْتَهُ أَمْرِي ؟ إِنْ لَمْ تَكُنْ غَضْبَانَ عَلَيَّ فَلَا أُبَالِي ، غَيْرَ أَنَّ عَافِيَتَكَ أَوْسَعُ لِي ، أُعُوذُ بِوَجْهِكَ الَّذِي أَشْرَقَتْ لَهُ الظُّلُمَاتُ ، وَصَلَحَ عَلَيْهِ أَمْرُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، أَنْ يَنْزِلَ بِي غَضَبُكَ أَوْ يَحِلَّ بِي سَخَطُكَ ، لَكَ الْعُتْبَى حَتَّى تَرْضَى ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب جناب ابوطالب کا انتقال ہو گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طائف تشریف لے گئے ، آپ پیدل وہاں تشریف لے گئے تھے ، آپ نے ان لوگوں کو اسلام کی دعوت کی ، انہوں نے آپ کی دعوت کو قبول نہیں کیا ، جب آپ واپس تشریف لا رہے تھے ، تو آپ ایک درخت کے سائے میں آئے ، وہاں آپ نے دو رکعت نماز ادا کی ، پھر آپ نے یہ دعا کی : اے اللہ ! میں تیرے سامنے اپنی قوت کے کمزور ہونے اور لوگوں کے سامنے اپنی حیثیت کے کم ہونے کی شکایت کرتا ہوں تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ! تو مجھے کس کے سپرد کرے گا ؟ دشمن کے تاکہ وہ میرے ساتھ سختی سے پیش آئے ، یا کسی قریب کے سپرد کرے گا جس کو تو میرے معاملے کا نگران بنا دے اگر تو مجھ پر غضبناک نہیں ہے ، تو پھر مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے ، تاہم تیری عافیت میرے لئے زیادہ گنجائش والی ہے میں تیری اس ذات کی پناہ لیتا ہوں ، جس کی وجہ سے تاریکیاں روشن ہوتی ہیں ، اور جس کی وجہ سے دنیا اور آخرت کا معاملہ ٹھیک ہوتا ہے ( اس بات سے پناہ لیتا ہوں ) کہ تیرا غضب مجھ پر نازل ہو جائے ، یا تیری ناراضگی میرے لیے حلال ہو جائے ، عتاب کرنا تیرے ہی لیے مخصوص ہے ، یہاں تک کہ تو راضی ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ مدلس اور ثقہ ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔