مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ تَكْسِيرِهِ الْأَصْنَامَ باب: نبی اکرم ﷺ کا بتوں کو توڑ دینا
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَشْهَدُ مَعَ الْمُشْرِكِينَ مَشَاهِدَهُمْ قَالَ : فَسَمِعَ مَلَكَيْنِ خَلْفَهُ ، وَأَحَدُهُمَا يَقُولُ لِصَاحِبِهِ : اذْهَبْ بِنَا حَتَّى نَقُومَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَقَالَ : كَيْفَ نَقُومُ خَلْفَهُ وَإِنَّمَا عَهْدُهُ بِاسْتِلَامِ الْأَصْنَامِ قَبْلُ ؟ قَالَ : فَلَمْ يَعُدْ بَعْدَ ذَلِكَ يَشْهَدُ مَعَ الْمُشْرِكِينَ مَشَاهِدَهُمْ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کے ساتھ ایک جنگ میں شریک ہوئے آپ نے اپنے پیچھے دو فرشتوں کی آواز سنی ان میں سے ایک دوسرے سے یہ کہہ رہا تھا تم ہمارے ساتھ چلو تاکہ ہم اللہ کے رسول کے پیچھے کھڑے ہو جائیں ، تو دوسرے فرشتے نے کہا: ہم ان کے پیچھے کیسے کھڑے ہو سکتے ہیں ، جبکہ انہوں نے تھوڑی دیر پہلے ایک بت کو چھو لیا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی مشرکین کی کسی جنگ میں حصہ نہیں لیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے وہ خراب حافظے کا مالک ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔