حدیث نمبر: 982
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَقْبِضُ اللَّهُ الْعُلَمَاءَ ، وَيَقْبِضُ الْعِلْمَ مَعَهُمْ ، فَيَنْشَأُ أَحْدَاثٌ يَنْزُو بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ ، وَيَكُونُ الشَّيْخُ فِيهِمْ يُسْتَضْعَفُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ ، وَالْحَجَّاجُ ضَعَّفَهُ ابْنُ عَدِيٍّ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ أَحَدٌ ، وَأَبُوهُ اخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ علماء کو قبض کر لے گا ، اور اُن کے ساتھ علم کو بھی قبض کر لے گا ، پھر کم عمر لوگ سامنے آئیں گے ، جو ایک دوسرے کا مقابلہ کریں گے اور اُن کے درمیان عمر رسیدہ شخص کو کمزور سمجھا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے حجاج بن رشدین بن سعد نے اپنے والد سے نقل کیا ہے ، حجاج کو ابن عدی نے ضعیف قرار دیا ہے ، کسی نے بھی اُسے ثقہ قرار نہیں دیا ، اُس کے باپ سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، تاہم زیادہ تر نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 982
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف، حجاج بن رشدین اور ان کے والد رشدین بن سعد کے ضعف کی وجہ سے۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 1892»