مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ ذَهَابِ الْعِلْمِ . باب: علم کا رخصت ہو جانا
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَا يَنْزِعُ الْعِلْمَ مِنَ النَّاسِ انْتِزَاعًا بَعْدَ أَنْ يُؤْتِيَهُمْ إِيَّاهُ ، وَلَكِنْ يَذْهَبُ بِالْعُلَمَاءِ ، فَكُلَّمَا ذَهَبَ عَالِمٌ ذَهَبَ بِمَا مَعَهُ مِنَ الْعِلْمِ ، حَتَّى يَبْقَى مَنْ لَا يَعْلَمُ فَيَضِلُّوا وَيُضِلُّوا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ ، هُوَ ضَعِيفٌ ، وَوَثَّقَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ اللَّيْثِ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بیشک اللہ تعالیٰ علم کو لوگوں کو دینے کے بعد ، اُسے لوگوں سے یوں الگ نہیں کرے گا ، کہ الگ ہی کر دے ، بلکہ وہ علماء کو رخصت کر دے گا ، جب بھی کوئی عالم رخصت ہو گا ، تو اُس کے ساتھ اس کا علم بھی رخصت ہو جائے گا ، یہاں تک کہ کوئی ایسا شخص نہیں بچے گا ، جو علم رکھتا ہو ، پھر لوگ گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے ، وہ ضعیف ہے ، عبدالملک بن سعید بن لیث نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے ۔