مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ ذَهَابِ الْعِلْمِ . باب: علم کا رخصت ہو جانا
حدیث نمبر: 981
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْزِعُ الْعِلْمَ مِنْكُمْ - بَعْدَ مَا أَعْطَاكُمُوهُ - انْتِزَاعًا ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعُلَمَاءَ بِعِلْمِهِمْ ، وَيَبْقَى جُهَّالٌ فَيُسْأَلُونَ ، فَيُفْتُونَ ، فَيُضِلُّونَ وَيَضِلُّونَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوہریره رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو یہ علم دینے کے بعد ، اسے تم سے الگ نہیں کرے گا ، لیکن وہ علماء کو ان کے علم سمیت قبض کر لے گا ، پھر جاہل لوگ باقی رہ جائیں گے ، اُن سے مسائل دریافت کیے جائیں گے ، وہ فتوی دیں گے اور گمراہ کریں گے ، اور خود بھی گمراہ ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے جو لیث کا کاتب ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس کی توثیق کی گئی ہے ۔