کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: علم کا رخصت ہو جانا
حدیث نمبر: 976
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : لَمَّا كَانَ فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَوْمَئِذٍ مُرْدِفُ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ عَلَى جَمَلٍ آدَمَ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، خُذُوا مِنَ الْعِلْمِ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ الْعَلْمُ ، وَقَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ " وَقَدْ كَانَ أَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - ( يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ وَإِنْ تَسْأَلُوا عَنْهَا حِينَ يُنَزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَكُمْ عَفَا اللَّهُ عَنْهَا وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ . قَالَ : وَكُنَّا قَدْ كَرِهْنَا كَثِيرًا مِنْ مَسْأَلَتِهِ ، وَاتَّقَيْنَا ذَلِكَ حِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - ذَلِكَ عَلَى نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَأَتَيْنَا أَعْرَابِيًّا فَرَشَوْنَاهُ بِرِدَاءٍ فَاعْتَمَّ بِهِ . قَالَ : حَتَّى رَأَيْتُ حَاشِيَتَهُ خَارِجَةً عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ . قَالَ : ثُمَّ قُلْنَا لَهُ : سَلِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، كَيْفَ يُرْفَعُ الْعِلْمُ مِنَّا وَبَيْنَ أَظْهُرِنَا الْمَصَاحِفُ ، وَقَدْ تَعَلَّمْنَا مَا فِيهَا ، وَعَلَّمْنَاهَا نِسَاءَنَا وَذَرَارِيَّنَا وَخَدَمَنَا ؟ قَالَ : فَرَفَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ وَقَدْ عَلَتْ وَجْهَهُ حُمْرَةٌ مِنَ الْغَضَبِ . قَالَ : فَقَالَ : " أَيْ ، ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ، وَهَذِهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى بَيْنَ أَظْهُرِهِمُ الْمَصَاحِفُ لَمْ يُصْبِحُوا يَتَعَلَّقُوا مِنْهَا بِحَرْفٍ مِمَّا جَاءَتْهُمْ بِهِ أَنْبِيَاؤُهُمْ ، أَلَا وَإِنَّ ذَهَابَ الْعِلْمِ ذَهَابُ حَمَلَتِهِ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَعِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ طَرَفٌ مِنْهُ ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ أَصَحُّ ; لِأَنَّ فِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ عَلِيَّ بْنَ يَزِيدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا ، وَهُوَ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ مِنْ طُرُقٍ فِي بَعْضِهَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ صَدُوقٌ ، يُكْتَبُ حَدِيثُهُ ، وَلَيْسَ مِمَّنْ يَتَعَمَّدُ الْكَذِبَ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حجۃ الوداع کے موقع پر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری پر اپنے پیچھے سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو بٹھایا ہوا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک خاکستری رنگ کے اونٹ پر سوار تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! علم حاصل کر لو ! اس سے پہلے کہ علم کو قبض کر لیا جائے اور اس سے پہلے کے اسے اٹھا لیا جائے ، اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کر دی ہے : ” اے ایمان والو ! تم اُن چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو ، کہ اگر وہ تمہارے سامنے ظاہر کر دی جائیں ، تو یہ تمہیں برا لگے ، اگر تم ان کے بارے میں اُس وقت سوال کرتے ہو ، جب قرآن نازل ہو رہا ہو ، تو وہ تمہارے سامنے ظاہر کر دی جائیں گی ، اللہ تعالیٰ اُس سے درگزر کرے ، اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا ، بردبار ہے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ ویسے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ سوال کرنے کو ناپسند کرتے تھے ، جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل کر دی ، تو ہم احتیاط کرنے لگے ، راوی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ ایک دیہاتی کے پاس آئے ، ہم نے اُسے ایک چادر دی اس نے وہ عمامہ کے طور پر باندھ لی ، یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ اس چادر کا حاشیہ اُس شخص کے دائیں ابرو سے نکل رہا تھا ، پھر ہم نے اُس سے کہا: تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرو ! اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے نبی ! ہم میں سے علم کو کیسے اٹھا لیا جائے گا ؟ جبکہ ہمارے درمیان قرآن مجید موجود ہے اور اس میں جو کچھ مذکور ہے ُ، ہم نے اُس کا علم حاصل کیا ہے اور ہم نے اُس کی تعلیم اپنے بیوی بچوں ، اور خدمت گزاروں کو دی ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک اٹھایا ، غصے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے شخص ! تمہاری ماں تمہیں روئے ، یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان بھی اُن کی مقدس کتابیں موجود تھیں ، اُن کے انبیاء ان کے پاس جو کلام لے کر آئے تھے ، اُن لوگوں نے اس میں سے ایک حرف بھی نہیں رہنے دیا ، یاد رکھنا ؟ علم کی رخصتی سے مراد اس کو اٹھانے والے ( علماء کی ) رخصتی ہے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ، تاہم امام طبرانی کی سند زیادہ مستند ہے ، کیونکہ امام أحمد کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ، امام طبرانی نے اسے مختلف حوالوں سے نقل کیا ہے ، ان میں سے بعض کی اسناد میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، وہ تدلیس کرنے والا صدوق شخص ہے اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، وہ اُن افراد میں سے نہیں ہے ، جو جان بوجھ کر جھوٹ بولتے ہیں ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 976
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 266/5 اورده المؤلف فى زوائد المسند 276»
حدیث نمبر: 977
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُوشِكُ بِالْعِلْمِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ " فَرَدَّدَهَا ثَلَاثًا ، فَقَالَ زِيَادُ بْنُ لَبِيدٍ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، بِأَبِي وَأُمِّي ، وَكَيْفَ يُرْفَعُ الْعِلْمُ مِنَّا ، وَهَذَا كِتَابُ اللَّهِ قَدْ قَرَأْنَاهُ وَيُقْرِئُهُ أَبْنَاؤُنَا أَبْنَاءَهُمْ ؟ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا زِيَادُ بْنَ لَبِيدٍ ، إِنْ كُنْتُ لَأَعُدُّكَ مِنْ فُقَهَاءِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، أَوَلَيْسَ هَؤُلَاءِ الْيَهُودُ عِنْدَهُمُ التَّوْرَاةُ وَالْإِنْجِيلُ ، فَمَا أَغْنَى عَنْهُمْ ؟ إِنَّ اللَّهَ لَيْسَ يَذْهَبُ بِالْعِلْمِ رَفْعًا يَرْفَعُهُ ، وَلَكِنْ يَذْهَبُ بِحَمَلَتِهِ - أَحْسَبُهُ - وَلَا يَذْهَبُ عَالِمٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا كَانَ ثُغْرَةً فِي الْإِسْلَامِ لَا تُسَدُّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ سِنَانٍ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَجَمَاعَةٌ ، إِلَّا أَنَّ أَبَا مُسْهِرٍ قَالَ : حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو مَهْدِيٍّ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ مُؤَذِّنُ أَهْلِ حِمْصَ ، وَكَانَ ثِقَةً مَرْضِيًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” عنقریب ایسا ہو گا کہ علم کو اٹھا لیا جائے گا ، راوی بیان کرتے ہیں : یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ دہرائی ، تو سیدنا زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، ہم سے علم کو کیسے اٹھایا جائے گا ؟ جبکہ یہ اللہ کی کتاب موجود ہے جسے ہم نے پڑھا ہے اور ہمارے بال بچے اپنے بال بچوں کو یہ پڑھائیں گے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : اے زیاد بن لبید ! تمہاری ماں تمہیں روئے ، میں تمہیں مدینہ کے سمجھدار افراد میں سے ایک شمار کرتا تھا ، کیا ان یہودیوں کے پاس تورات اور انجیل نہیں تھی ؟ تو وہ ان کے کس کام آئی ، بے شک اللہ تعالیٰ علم کو یوں رخصت نہیں کرے گا کہ وہ اس کو اُٹھا لے گا ، بلکہ وہ اس کے حاملین ( یعنی علماء ) کو رخصت کر دے گا ، راوی بیان کرتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ” جب بھی اس امت کا کوئی عالم رخصت ہو گا ، تو اسلام میں سوراخ ہو جائے گا ، جو قیامت کے دن تک بند نہیں ہو گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی سعد بن سنان ہے ، جس کو امام بخاری رحمہ اللہ ، یحیی بن معین اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ، البتہ ابومسہر کہتے ہیں : صدقہ بن خالد نے ہمیں حدیث بیان کی ہے ، وہ کہتے ہیں : اہل حمص کے مؤذن ابومہدی سعید بن سنان نے مجھے حدیث بیان کی ، جو ایک ثقہ اور پسندیدہ شخص ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 977
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 235»
حدیث نمبر: 978
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ : " هَذَا أَوَانُ يُرْفَعُ الْعِلْمُ " فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ - يُقَالُ لَهُ : زِيَادُ بْنُ لَبِيدٍ - : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَيْفَ وَقَدْ أُثْبِتَ وَوَعَتْهُ الْقُلُوبُ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ كُنْتُ لَأَحْسَبُكَ مِنْ أَفْقَهِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ " ، ثُمَّ ذَكَرَ ضَلَالَةَ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى عَلَى مَا فِي أَيْدِيهِمْ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ ، قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ : كَانَ ثِقَةً مَأْمُونًا . وَضَعَّفَهُ الْبَاقُونَ . ¤ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَزَادَ : قَالَ جُبَيْرُ بْنُ نُفَيْرٍ : فَلَقِيتُ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ ، فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثَ عَوْفٍ فَقَالَ : صَدَقَ عَوْفٌ أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَوَّلِ ذَلِكَ ؟ يُرْفَعُ الْخُشُوعُ ، لَا تَرَى خَاشِعًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا : یہ وہ وقت ہے جس میں علم کو اٹھا لیا جائے گا ، انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کا نام زیاد بن لبید تھا ، انہوں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ کیسے ہو گا ؟ جبکہ وہ ( یعنی علم ) مضبوط ہو گا اور دلوں نے اُسے محفوظ رکھا ہو گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا : میں تو تمہیں اہل مدینہ کے سمجھدار افراد میں سے ایک شمار کرتا تھا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا ذکر کیا کہ یہودی اور عیسائی بھی گمراہی کا شکار ہو گئے تھے ، حالانکہ اللہ کی کتاب ان کے درمیان موجود تھی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے ، عبدالملک بن شعیب فرماتے ہیں : وہ ثقہ اور مامون ہے ، باقی لوگوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسی طرح نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : جبیر بن نفیر بیان کرتے ہیں : میری ملاقات سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، میں نے انہیں سیدنا عوف کی نقل کردہ روایت سنائی ، تو انہوں نے فرمایا : سیدنا عوف نے سچ بیان کیا ہے ، کیا میں تمہیں ( اُٹھا لی جانے والی ) سب سے پہلی چیز کے بارے میں بتاؤں ؟ ( سب سے پہلے ) خشوع کو اٹھا لیا جائے گا ، تمہیں خشوع والا ( کوئی بھی شخص ) نظر نہیں آئے گا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 978
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 43/1844 اورده المؤلف فى كشف الاستار 232»
حدیث نمبر: 979
وَعَنْ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يُوشِكُ الْعِلْمُ أَنْ يُخْتَلَسَ مِنَ النَّاسِ حَتَّى لَا يَقْدِرُونَ مِنْهُ عَلَى شَيْءٍ " ، فَقَالَ زِيَادُ بْنُ لَبِيدٍ : وَكَيْفَ يُخْتَلَسُ مِنَّا الْعِلْمُ وَقَدْ قَرَأْنَا الْقُرْآنَ وَأَقْرَأْنَاهُ أَبْنَاءَنَا ؟ فَقَالَ : " ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَابْنَ لَبِيدٍ ، هَذِهِ التَّوْرَاةُ وَالْإِنْجِيلُ بِأَيْدِي الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى مَا يَرْفَعُونَ بِهَا رَأْسًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عنقریب ایسا ہو گا کہ لوگوں سے علم کو اُچک لیا جائے گا ، یہاں تک کہ وہ لوگ اُس کی کسی بھی چیز پر قدرت نہیں رکھیں گے سیدنا زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ہم سے علم کو کیسے اُچک لیا جائے گا ؟ جبکہ ہم قرآن پڑھے ہوئے ہیں ، اور ہم نے اپنے بچوں کو بھی یہ پڑھایا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لبید کے صاحبزادے ! یہ تورات اور انجیل ، یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس بھی موجود تھیں ، لیکن اُنہوں نے سر اُٹھا کر بھی ( ان کی طرف ) نہیں دیکھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 979
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 980
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ النَّاسِ ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ [ الْعِلْمَ بِقَبْضِ ] الْعُلَمَاءِ ، فَإِذَا ذَهَبَ الْعُلَمَاءُ اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤَسَاءَ ، فَسُئِلُوا ، فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا عَنْ سَوَاءِ السَّبِيلِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ ، ضَعَّفَهُ ابْنُ عَدِيٍّ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ اس علم کو یوں قبض نہیں کرے گا ، کہ اسے لوگوں سے الگ کر لے گا ، بلکہ وہ علماء کو قبض کرنے کے ذریعے علم کو قبض کر لے گا ، جب علماء رخصت ہو جائیں گے ، تو لوگ ( جاہلوں کو ) پیشوا بنا لیں گے ، جب اُن سے مسائل دریافت کیے جائیں گے ، تو وہ لوگ علم نہ ہونے کے باوجود فتوی دیں گے ، تو وہ خود بھی سیدھے راستے سے گمراہ ہو جائیں گے اور ( لوگوں کو بھی ) گمراہ کر دیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علاء بن سلیمان رقی ہے ، جسے ابن عدی اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 980
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 6403»
حدیث نمبر: 981
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْزِعُ الْعِلْمَ مِنْكُمْ - بَعْدَ مَا أَعْطَاكُمُوهُ - انْتِزَاعًا ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعُلَمَاءَ بِعِلْمِهِمْ ، وَيَبْقَى جُهَّالٌ فَيُسْأَلُونَ ، فَيُفْتُونَ ، فَيُضِلُّونَ وَيَضِلُّونَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریره رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو یہ علم دینے کے بعد ، اسے تم سے الگ نہیں کرے گا ، لیکن وہ علماء کو ان کے علم سمیت قبض کر لے گا ، پھر جاہل لوگ باقی رہ جائیں گے ، اُن سے مسائل دریافت کیے جائیں گے ، وہ فتوی دیں گے اور گمراہ کریں گے ، اور خود بھی گمراہ ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے جو لیث کا کاتب ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 981
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 8737»
حدیث نمبر: 982
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَقْبِضُ اللَّهُ الْعُلَمَاءَ ، وَيَقْبِضُ الْعِلْمَ مَعَهُمْ ، فَيَنْشَأُ أَحْدَاثٌ يَنْزُو بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ ، وَيَكُونُ الشَّيْخُ فِيهِمْ يُسْتَضْعَفُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ ، وَالْحَجَّاجُ ضَعَّفَهُ ابْنُ عَدِيٍّ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ أَحَدٌ ، وَأَبُوهُ اخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ علماء کو قبض کر لے گا ، اور اُن کے ساتھ علم کو بھی قبض کر لے گا ، پھر کم عمر لوگ سامنے آئیں گے ، جو ایک دوسرے کا مقابلہ کریں گے اور اُن کے درمیان عمر رسیدہ شخص کو کمزور سمجھا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے حجاج بن رشدین بن سعد نے اپنے والد سے نقل کیا ہے ، حجاج کو ابن عدی نے ضعیف قرار دیا ہے ، کسی نے بھی اُسے ثقہ قرار نہیں دیا ، اُس کے باپ سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، تاہم زیادہ تر نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 982
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف، حجاج بن رشدین اور ان کے والد رشدین بن سعد کے ضعف کی وجہ سے۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 1892»
حدیث نمبر: 983
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَا يَنْزِعُ الْعِلْمَ مِنَ النَّاسِ انْتِزَاعًا بَعْدَ أَنْ يُؤْتِيَهُمْ إِيَّاهُ ، وَلَكِنْ يَذْهَبُ بِالْعُلَمَاءِ ، فَكُلَّمَا ذَهَبَ عَالِمٌ ذَهَبَ بِمَا مَعَهُ مِنَ الْعِلْمِ ، حَتَّى يَبْقَى مَنْ لَا يَعْلَمُ فَيَضِلُّوا وَيُضِلُّوا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ ، هُوَ ضَعِيفٌ ، وَوَثَّقَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ اللَّيْثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بیشک اللہ تعالیٰ علم کو لوگوں کو دینے کے بعد ، اُسے لوگوں سے یوں الگ نہیں کرے گا ، کہ الگ ہی کر دے ، بلکہ وہ علماء کو رخصت کر دے گا ، جب بھی کوئی عالم رخصت ہو گا ، تو اُس کے ساتھ اس کا علم بھی رخصت ہو جائے گا ، یہاں تک کہ کوئی ایسا شخص نہیں بچے گا ، جو علم رکھتا ہو ، پھر لوگ گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے ، وہ ضعیف ہے ، عبدالملک بن سعید بن لیث نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 983
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 233»
حدیث نمبر: 984
وَعَنْ عَائِشَةَ - رَفَعَتْهُ - قَالَ : " مَوْتُ الْعَالِمِ ثُلْمَةٌ فِي الْإِسْلَامِ ، لَا تُسَدُّ مَا اخْتَلَفَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ الْبَزَّارُ : يَرْوِي أَحَادِيثَ لَا يُتَابَعُ عَلَيْهَا . وَهَذَا مِنْهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ” مرفوع حدیث “ کے طور پر یہ بات نقل کرتی ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” عالم کی موت ایسا شگاف ہے ، جو وقت گزرنے کے ساتھ بھی پر نہیں ہو گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے محمد بن عبدالملک نے زہری سے روایت کیا ہے ، امام بزار فرماتے ہیں : یہ شخص ایسی احادیث روایت کرتا ہے ، جن کی متابعت نہیں کی جاتی اور یہ حدیث بھی اُن میں سے ایک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 984
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 234»
حدیث نمبر: 985
وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ قَالَ : حَضَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى طَلَبِ الْعِلْمِ قَبْلَ ذَهَابِهِ ، فَقَالَ رَجُلٌ : كَيْفَ يَذْهَبُ وَقَدْ تَعَلَّمْنَاهُ وَعَلَّمْنَاهُ أَبْنَاءَنَا ؟ فَغَضِبَ . قَالَ : " أَوَلَيْسَ التَّوْرَاةُ وَالْإِنْجِيلُ فِي يَدِ أَهْلِ الْكِتَابِ ؟ فَهَلْ أَغْنَى عَنْهُمْ شَيْئًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ الْخُشَنِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی ترغیب دی کہ علم کے رخصت ہونے سے پہلے علم حاصل کر لیا جائے ، ایک صاحب بولے : وہ کیسے رخصت ہو گا ؟ جبکہ ہم نے اس کو سیکھا ہے اور اپنے بچوں کو اس کی تعلیم دی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا اہل کتاب کے پاس تورات اور انجیل نہیں تھیں ، تو کیا یہ چیز اُن کے کسی کام آئی ؟
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی خشنی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 985
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 7398»
حدیث نمبر: 986
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَوْتُ الْعَالِمِ مُصِيبَةٌ لَا تُجْبَرُ ، وَثُلْمَةٌ لَا تُسَدُّ وَهُوَ نَجْمٌ طُمِسَ ، وَمَوْتُ قَبِيلَةٍ أَيْسَرُ لِي مِنْ مَوْتِ عَالِمٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ أَيْمَنَ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ ، وَكَذَلِكَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ صَالِحٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عالم کی موت ایسی مصیبت ہے ، جس کو ختم نہیں کیا جا سکتا اور ایسا شگاف ہے ، جسے بند نہیں کیا جا سکتا ، وہ اک ستارہ تھا ، جو بجھ گیا ، میرے نزدیک پورے قبیلے کا مر جانا ، ایک عالم کی موت سے زیادہ آسان ( یعنی ہلکی مصیبت ) ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن ایمن ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ، اسماعیل بن صالح کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 986
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 987
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ مَثَلَ الْعُلَمَاءِ كَمَثَلِ النُّجُومِ فِي السَّمَاءِ ، يُهْتَدَى بِهَا فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ، فَإِذَا انْطَمَسَتِ النُّجُومُ أَوْشَكَ أَنْ يَضِلَّ الْهُدَاةُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَيْهِ فِي فَضْلِ الْعَالِمِ وَالْمُتَعَلِّمِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” علماء کی مثال ، آسمان میں موجود ستاروں کی مانند ہے ، جن کے ذریعے خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں رہنمائی حاصل کی جاتی ہے اور جب ستارے بجھ جائیں ، تو جو لوگ سیدھے راستے پر ہوں ، اُن کے بھی گمراہ ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، عالم اور طالب علم کی فضیلت سے متعلق باب میں ، اس روایت پر کلام پہلے گزر چکا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 987
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 157/3 اورده المؤلف فى زوائد المسند 175»
حدیث نمبر: 988
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَكْثُرُ الْفِتَنُ ، وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ ، وَيُرْفَعُ الْعِلْمُ " ، فَلَمَّا سَمِعَ عُمَرُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : " يُرْفَعُ الْعِلْمُ " - قَالَ عُمَرُ : أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ يُنْزَعُ مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ ، وَلَكِنْ تَذْهَبُ الْعُلَمَاءُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ - وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَ عُمَرَ - وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” فتنے بکثرت ہو جائیں گے ، ہرج بکثرت ہو گا اور علم کو اٹھا لیا جائے گا “ ۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ علم کو اٹھا لیا جائے گا : تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اُسے لوگوں کے سینے سے الگ نہیں کیا جائے گا ، بلکہ علماء رخصت ہو جائیں گے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، یہ ” صحیح “ میں بھی منقول ہے ، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے بغیر ہے ، اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 988
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح، اس کے تمام راوی صحیح بخاری ومسلم کے ہیں۔
تخریج حدیث «اوردة المؤلف فى زوائد المسند 279 أورده المؤلف فى كشف الاستار 236»
حدیث نمبر: 989
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَزَالُ هَذِهِ الْأُمَّةُ عَلَى شَرِيعَةٍ مَا لَمْ يَظْهَرْ فِيهِمْ ثَلَاثٌ : مَا لَمْ يُقْبَضِ الْعِلْمُ مِنْهُمْ ، وَيَكْثُرْ فِيهِمْ وَلَدُ الْحِنْثِ ، وَيَظْهَرْ فِيهِمُ الصَّقَّارُونَ " . قِيلَ : وَمَنِ الصَّقَّارُونَ أَوِ الصَّقَّارُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " بَشَرٌ يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ ، تَحِيَّتُهُمْ بَيْنَهُمُ التَّلَاعُنُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَزَبَّانُ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” یہ امت مسلسل شریعت پر گامزن رہے گی ، جب تک ان کے درمیان تین چیزیں ظاہر نہیں ہوں گی ، جب تک ان سے علم کو قبض نہیں کر لیا جاتا ، اور ان کے درمیان حنث کی اولاد زیادہ نہیں ہوتی اور ان کے درمیان ” صقارون “ ظاہر نہیں ہوتے ، عرض کی گئی : ” صقارون “ سے مراد کیا ہے ؟ یا رسول اللہ ! ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ ایسے لوگ ہیں ، جو آخری زمانے میں ہوں گے ، اور ان لوگوں کا آپس میں سلام کرنے کا طریقہ یہ ہو گا کہ وہ ایک دوسرے پر لعنت کریں گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ( اپنی ” مسند “ میں ) اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں دو راوی ابن لہیعہ اور زبان ہیں ، یہ دونوں ضعیف ہیں ، ان کو ثقہ بھی قرار دیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 989
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 439/3 اورده المؤلف فى زوائد المسند 4380»
حدیث نمبر: 990
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : تَدْرُونَ كَيْفَ يَنْقُصُ الْإِسْلَامُ ؟ قَالُوا : كَمَا يَنْقُصُ صَبْغُ الثَّوْبِ ، وَكَمَا يَنْقُصُ سِمَنُ الدَّابَّةِ ، وَكَمَا يَنْقُصُ الدِّرْهَمُ مِنْ طُولِ الْخِبَاءِ . قَالَ : إِنَّ ذَلِكَ لَمِنْهُ ، وَأَكْبَرُ مِنْ ذَلِكَ مَوْتُ أَوْ ذَهَابُ الْعُلَمَاءِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم لوگ جانتے ہو ؟ اسلام کیسے کم ہو گا ؟ لوگوں نے جواب دیا : جس طرح کپڑے کا رنگ کم ہو جاتا ہے ، یا جس طرح جانور کا موٹاپا کم ہو جاتا ہے ، یا جس طرح طویل استعمال کے بعد درہم کم ہو جاتا ہے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ بھی اس میں سے ہے ، لیکن ان سب سے بڑی بات علماء کی موت ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) علماء کی رخصتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 990
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 8991»
حدیث نمبر: 991
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ : شَهِدْتُ جِنَازَةَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، فَلَمَّا دُفِنَ فِي قَبْرِهِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : يَا هَؤُلَاءِ ، مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَعْلَمَ كَيْفَ ذَهَابُ الْعِلْمِ فَهَكَذَا ذَهَابُ الْعِلْمِ . أَيْمُ اللَّهِ ، لَقَدْ ذَهَبَ الْيَوْمَ عِلْمٌ كَثِيرٌ . قَالَ سَعِيدٌ : وَالْقَائِلُ : لَقَدْ ذَهَبَ الْيَوْمَ عِلْمٌ كَثِيرٌ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن مسیب فرماتے ہیں : میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے جنازے میں شریک ہوا ، جب انہیں قبر میں دفن کر دیا گیا ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اے لوگو ! جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ اُسے یہ پتہ چل جائے کہ علم کیسے رخصت ہوتا ہے ؟ تو علم اس طرح رخصت ہو گا ، اللہ کی قسم ! آج بہت سا علم رخصت ہو گیا ۔ سعید بن مسیب فرماتے ہیں : کہنے والا یہ بھی کہے گا : آج بہت سا علم رخصت ہو گیا ، اُن کی مراد ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید بن جدعان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 991
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمها الكبير 4751»
حدیث نمبر: 992
وَعَنْهُ قَالَ : هَلْ تَدْرُونَ مَا ذَهَابُ الْعِلْمِ ؟ هُوَ ذَهَابُ الْعُلَمَاءِ مِنَ الْأَرْضِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ يَأْتِي فِي سُورَةِ سَأَلَ ، وَفِيهِ قَابُوسٌ ، وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤ وَيَأْتِي حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي الْفَرَائِضِ . ¤
محمد محی الدین
اُن کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ فرماتے ہیں : کیا تم لوگ جانتے ہو ؟ علم کے رخصت ہونے سے مراد کیا ہے ؟ وہ زمین سے علماء کا رخصت ہو جانا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک حدیث میں نقل کی ہے ، جو آگے چل کر ” سورہ سال “ سے متعلق باب میں آئے گی ، اس کی سند میں ایک راوی قابوس ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ” فرائض “ ( یعنی وراثت ) سے متعلق باب میں آگے آئے گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 992
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى زوائد المسند 278»