حدیث نمبر: 980
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ النَّاسِ ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ [ الْعِلْمَ بِقَبْضِ ] الْعُلَمَاءِ ، فَإِذَا ذَهَبَ الْعُلَمَاءُ اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤَسَاءَ ، فَسُئِلُوا ، فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا عَنْ سَوَاءِ السَّبِيلِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ ، ضَعَّفَهُ ابْنُ عَدِيٍّ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ اس علم کو یوں قبض نہیں کرے گا ، کہ اسے لوگوں سے الگ کر لے گا ، بلکہ وہ علماء کو قبض کرنے کے ذریعے علم کو قبض کر لے گا ، جب علماء رخصت ہو جائیں گے ، تو لوگ ( جاہلوں کو ) پیشوا بنا لیں گے ، جب اُن سے مسائل دریافت کیے جائیں گے ، تو وہ لوگ علم نہ ہونے کے باوجود فتوی دیں گے ، تو وہ خود بھی سیدھے راستے سے گمراہ ہو جائیں گے اور ( لوگوں کو بھی ) گمراہ کر دیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علاء بن سلیمان رقی ہے ، جسے ابن عدی اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 980
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 6403»