مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَنْقُضُ عَهْدَ أَهْلِ الذِّمَّةِ . باب: جو شخص اہل ذمہ کا عہد توڑ دے
عَنْ غُرْفَةَ بْنِ الْحَارِثِ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ ، وَقَاتَلَ مَعَ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ بِالْيَمَنِ فِي الرِّدَّةِ - أَنَّهُ مَرَّ بِنَصْرَانِيٍّ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ ، يُقَالُ لَهُ : الْمَنْدِقُونَ ، فَدَعَاهُ إِلَى الْإِسْلَامِ ، فَذَكَرَ النَّصْرَانِيُّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَنَاوَلَهُ ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ : قَدْ أَعْطَيْنَاهُمُ الْعَهْدَ ، فَقَالَ عَرَفَةُ : مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ نَكُونَ أَعْطَيْنَاهُمُ الْعُهُودَ وَالْمَوَاثِيقَ عَلَى أَنْ يُؤْذُونَا فِي اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، إِنَّمَا أَعْطَيْنَاهُمْ عَلَى أَنْ يُخَلَّى بَيْنَنَا وَبَيْنَ كَنَائِسِهِمْ ، يَقُولُونَ فِيهَا مَا بَدَا لَهُمْ ، وَأَنْ لَا نُحَمِّلَهُمْ مَا لَا طَاقَةَ لَهُمْ بِهِ ، وَأَنْ نُقَاتِلَ مِنْ وَرَائِهِمْ ، وَأَنْ يُخَلَّى بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ أَحْكَامِهِمْ ، إِلَّا أَنْ يَأْتُونَا فَنَحْكُمَ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ ، فَقَالَ عَمْرٌو : صَدَقْتَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ ، قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ اللَّيْثِ : ثِقَةٌ مَأْمُونٌ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا غرفہ بن حارث رضی اللہ عنہ جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے اور انہوں نے یمن میں سیدنا عکرمہ بن ابوجہل رضی اللہ عنہ کے ساتھ مرتدین کے ساتھ جنگ کی تھی ان کا گزر اہل مصر کے ایک عیسائی مشخص کے پاس سے ہوا جس کا نام مندقون تھا ۔ انہوں نے اسے اسلام کی دعوت دی عیسائی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا اور آپ کی شان میں گستاخی کی یہ معاملہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا گیا انہوں نے سیدنا غرفہ رضی اللہ عنہ کو بلوایا تو انہوں نے کہا: ہم نے انہیں عہد دیا ہے سیدنا غرفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس بات سے اللہ کی پناہ ہے کہ ہم انہیں اس بات کا عہد دیں اور اس بات کا میثاق کریں کہ یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول کے حوالے سے ہمیں اذیت دیں ہم نے انہیں یہ عہد اس لئے دیا تھا کہ ہم انہیں اپنی عبادت گاہوں کے درمیان چھوڑ دیں گے وہ اپنی عبادت گاہوں میں جو چاہیں پڑھیں اور ہم انہیں کسی ایسی چیز کا پابند نہیں کریں گے جن کی ان میں طاقت نہ ہو اور ہم ان کی خاطر جنگ بھی کریں گے اور ان کے احکام کے حوالے سے انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں گے لیکن جب یہ ہمارے پاس آئیں گے تو ہم ان کے درمیان اس چیز کے مطابق فیصلہ دیں گے ، جو اللہ تعالیٰ نے نازل کی ہے ، تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ نے ٹھیک کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے عبدالملک بن سعید کہتے ہیں : یہ ثقہ اور مامون ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔