مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَنْقُضُ عَهْدَ أَهْلِ الذِّمَّةِ . باب: جو شخص اہل ذمہ کا عہد توڑ دے
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ; أَنَّهُ أَبْصَرَ نَصْرَانِيًّا يَسُوقُ بِامْرَأَةٍ ، فَنَخَسَ بِهَا فَصُرِعَتْ ، فَتَحَلَّلَهَا ، فَضَرَبْتُهُ بِخَشَبَةٍ مَعِي فَشَجَجْتُهُ ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، فَقُلْتُ : أَجِرْنِي مِنْ عَمْرٍو ، وَخَشِيتُ عَجَلَتَهُ ، فَأَتَى عَمْرًا فَأَخْبَرَهُ ، فَجَمَعَ بَيْنَنَا ، فَلَمْ يَزَلْ بِالنَّصْرَانِيِّ حَتَّى اعْتَرَفَ ، فَأَمَرَ لَهُ بِخَشَبَةٍ فَنُحِتَتْ ، ثُمَّ قَالَ : لِهَؤُلَاءِ عَهْدٌ ، فَفُوا لَهُمْ بِعَهْدٍ مَا وَفَوْا لَكُمْ ، فَإِذَا بَدَّلُوا فَلَا عَهْدَ لَهُمْ . وَأَمَرَ بِهِ فَصُلِبَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے ایک عیسائی کو دیکھا ، جو ایک عورت کو پکڑ کر لے جا رہا تھا ، اس نے اس عورت کو مارا ، تو وہ مر گئی ، اس شخص نے اس عورت کے ٹکڑے کر دیئے ، میں نے اسے اپنے پاس موجود لکڑی ماری ، تو اس کا خون نکل آیا ، میں سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس گیا میں نے کہا: آپ عمرو کے حوالے سے مجھے پناہ دیں ، مجھے ان کی طرف سے جلد بازی کا اندیشہ ہے ، پھر وہ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، اور انہیں اس بارے میں بتایا ، انہوں نے ہمیں اکٹھا کیا ، وہ مسلسل عیسائی سے تفتیش کرتے رہے ، یہاں تک کہ اس نے اعتراف کر لیا انہوں نے اس کے بارے میں لکڑی کا حکم دیا ، اُسے تیار کیا گیا پھر انہوں نے فرمایا : ان لوگوں کے ساتھ عہد ہے ، تو جب تک یہ تمہارے ساتھ عہد پورا کرتے ہیں ، تم بھی ان کے ساتھ عہد پورا کرو ، لیکن جب یہ خلاف ورزی کر لیں گے ، تو پھر ان کے لئے عہد نہیں ہو گا ، پھر ان کے حکم تحت اس شخص کو پھانسی دے دی گئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔