مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ ذَهَابِ الْعِلْمِ . باب: علم کا رخصت ہو جانا
وَعَنْ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يُوشِكُ الْعِلْمُ أَنْ يُخْتَلَسَ مِنَ النَّاسِ حَتَّى لَا يَقْدِرُونَ مِنْهُ عَلَى شَيْءٍ " ، فَقَالَ زِيَادُ بْنُ لَبِيدٍ : وَكَيْفَ يُخْتَلَسُ مِنَّا الْعِلْمُ وَقَدْ قَرَأْنَا الْقُرْآنَ وَأَقْرَأْنَاهُ أَبْنَاءَنَا ؟ فَقَالَ : " ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَابْنَ لَبِيدٍ ، هَذِهِ التَّوْرَاةُ وَالْإِنْجِيلُ بِأَيْدِي الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى مَا يَرْفَعُونَ بِهَا رَأْسًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عنقریب ایسا ہو گا کہ لوگوں سے علم کو اُچک لیا جائے گا ، یہاں تک کہ وہ لوگ اُس کی کسی بھی چیز پر قدرت نہیں رکھیں گے سیدنا زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ہم سے علم کو کیسے اُچک لیا جائے گا ؟ جبکہ ہم قرآن پڑھے ہوئے ہیں ، اور ہم نے اپنے بچوں کو بھی یہ پڑھایا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لبید کے صاحبزادے ! یہ تورات اور انجیل ، یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس بھی موجود تھیں ، لیکن اُنہوں نے سر اُٹھا کر بھی ( ان کی طرف ) نہیں دیکھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے ۔