مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يُقْطَعُ مِنَ الْأَرَاضِي وَالْمِيَاهِ . باب: زمین یا پانیوں کو جاگیر کے طور پر دینا
وَعَنْ مُجَّاعَةَ قَالَ : أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُجَّاعَةَ بْنَ مَرَارَةَ مِنْ بَنِي سُلْمَى أَرْضًا بِالْيَمَامَةِ ، يُقَالُ لَهَا : الْعَوْزَةُ قَالَ : وَكَتَبَ لَهُ بِذَلِكَ كِتَابًا : " مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِمُجَّاعَةَ بْنِ مَرَارَةَ مِنْ بَنِي سُلْمَى : إِنِّي أَعْطَيْتُكَ الْعَوْزَةَ ، فَمَنْ خَالَفَنِي فِيهَا فَالنَّارَ " . وَكَتَبَ يَزِيدُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا مجاعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا مجاعہ بن مرارہ رضی اللہ عنہ جن کا تعلق بنو سلمہ سے تھا انہیں یمامہ میں ایک زمین عطیہ کے طور پر دی جس کا نام عوزہ تھا ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں تحریر لکھوائی : یہ اللہ کے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مجاعہ بن مرارہ کے لئے ہے ، جو بنوسلمی سے تعلق رکھتا ہے میں تمہیں عوزہ دے رہا ہوں جو شخص اس بارے میں میرے حکم کی خلاف ورزی کرے گا ۔ تو اسے آگ نصیب ہو گی “ ۔ یہ تحریر یزید ( نامی صاحب ) نے لکھی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔