حدیث نمبر: 9784
عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اكْتُبْ لِي بِكَذَا وَكَذَا لِأَرْضٍ مِنَ الشَّامِ لَمْ يَظْهَرْ عَلَيْهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَئِذٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا تَسْمَعُونَ مَا يَقُولُ هَذَا ؟ " فَقَالَ أَبُو ثَعْلَبَةَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَيَظْهَرَنَّ عَلَيْهَا . قَالَ : فَكَتَبَ لِي بِهَا - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے فلاں فلاں جگہ کے لئے تحریر کروا دیں یہ شام میں موجود ایک جگہ تھی جس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی تک غلبہ حاصل نہیں کیا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم لوگ سن نہیں رہے ہو یہ کیا کہہ رہا ہے ؟ سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ( مسلمان ) اس پر ضرور غالب آئیں گے راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں میرے لئے تحریر لکھوا دی ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 9785
وَعَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ قَالَ : اسْتَقْطَعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْضًا بِالشَّامِ قَبْلَ أَنْ يَفْتَحَ ، فَأَعْطَانِيهَا ، فَفَتَحَهَا عُمَرُ فِي زَمَانِهِ ، فَأَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْطَانِي أَرْضًا مِنْ كَذَا إِلَى كَذَا ، فَجَعَلَ عُمَرُ ثُلُثَهَا لِابْنِ السَّبِيلِ ، وَثُلُثًا لِعُمَّارِيهَا ، وَثُلُثًا لَنَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شام کے فتح ہونے سے پہلے شام میں موجود ایک زمین جاگیر کے طور پر مانگی تو وہ آپ نے مجھے عطا کر دی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں وہ زمین فتح ہوئی میں ان کے پاس آیا میں نے کہا: اللہ کے رسول نے مجھے فلاں جگہ سے لے کر فلاں تک کی جگہ عطا کی تھی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا ایک تہائی حصہ مسافر کے لئے ایک تہائی حصہ وہاں کام کاج کرنے والوں کے لئے اور ایک تہائی حصہ ہمارے لئے مقرر کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9786
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ; أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقْطَعَ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ الْمَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةَ جَلْسِيَّهَا وَغَوْرِيَّهَا ، وَحَيْثُ يَصْلُحُ الزَّرْعُ مِنْ قُدْسٍ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا ، وَقَدْ حَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کو ” قبلیہ “ کی معدنیات ، وہاں کی بالائی اور نشیبی زمین سمیت جاگیر کے طور پر عطا کی تھیں اور وہ بھی جہاں قدس ( یعنی بالائی حصے ) کے علاقے میں کھیتی باڑی ہو سکے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔ امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔ امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 9787
وَعَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ ; أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقْطَعَهُ هَذِهِ الْقَطِيعَةَ ، وَكَتَبَ لَهُ : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، هَذَا مَا أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ ، أَعْطَاهُ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ ، غَوْرِيَّهَا وَجَلْسِيَّهَا ، عُشْبَةٌ وَذَاتُ النُّصُبِ ، وَحَيْثُ يَصْلُحُ الزَّرْعُ مِنْ قُدْسٍ إِنْ كَانَ صَادِقًا " . وَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زَبَالَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ قطع اراضی جاگیر کے طور پر دیا تھا ان کے لئے یہ تحریر لکھوائی تھی : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے اللہ کے رسول نے یہ جگہ بلال بن حارث کو دی ہے ، جو ” قبلیہ “ ( نامی جگہ ) کی معدنیات ہے اور اس کے بالائی اور نشیبی حصے سمیت ہے ، وہاں کی گھاس پھوس ، اور وہ بالائی جگہ بھی جہاں کھیتی باڑی ہو سکے ، اگر یہ سچا ہے “ ۔ یہ تحریر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے لکھ کر دی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 9788
وَعَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ ; أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقْطَعَ لَهُ الْعَقِيقَ [ كُلَّهُ ] . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زَبَالَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عقیق نامی جگہ ساری کی ساری انہیں جاگیر کے طور پر دے دی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 9789
وَعَنْ أَبِي هِنْدٍ الدَّارِيِّ ; أَنَّهُمْ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُمْ سِتَّةُ نَفَرٍ : أَوْسُ بْنُ خَارِجَةَ بْنِ سَوَادَانَ بْنِ جُذَيْمَةَ بْنِ ذَرَّاعِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الدَّارِ ، وَأَخُوهُ : تَمِيمُ بْنُ أَوْسٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ قَيْسٍ ، وَأَبُو هِنْدٍ [ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَخُوهُ الطَّيِّبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ، وَفَاكِهَ بْنَ ] النُّعْمَانِ ، فَأَسْلَمُوا ، وَسَأَلُوهُ أَنْ يُعْطِيَهُمْ أَرْضًا مِنْ أَرْضِ الشَّامِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَلُوا حَيْثُ أَحْبَبْتُمْ " . ¤ فَنَهَضُوا مِنْ عِنْدِهِ يَتَشَاوَرُونَ فِي مَوْضِعٍ يَسْأَلُونَهُ إِيَّاهُ ، فَقَالَ تَمِيمٌ : أَرَى أَنْ نَسْأَلَهُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ وَكَوْرَتَهَا ، فَقَالَ أَبُو هِنْدٍ : أَرَأَيْتَ مَلِكَ الْعَجَمِ الْيَوْمَ ، أَلَيْسَ هُوَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ ؟ قَالَ تَمِيمٌ : نَعَمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ زِيَادُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہند داری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ لوگ چھ افراد تھے اوس بن خارجہ بن سودان بن جذیمہ بن زار بن عدی بن دار ، ان کے بھائی تمیم بن اوس ، یزید بن قیس ، ابوہند بن عبداللہ ، ان کے بھائی طبیب بن عبداللہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام عبدالرحمن رکھا تھا ، اور فاکہ بن نعمان ان حضرات نے اسلام قبول کر لیا انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کی کہ وہ شام کی زمین میں سے ایک زمین انہیں عطا کر دیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جہاں کے بارے میں چاہو مانگ لو وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ کر گئے ، اور اس جگہ کے بارے میں باہمی مشورہ کرنے لگے ، جو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگیں گے تو سیدنا تمیم رضی اللہ عنہ نے کہا: میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیت المقدس اور اس کے آس پاس کا علاقہ مانگ لیتے ہیں ، تو سیدنا ابوہند رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہارا کیا خیال ہے آج عجمیوں کی حکومت ، کیا وہ بیت المقدس میں نہیں ہے ، تو سیدنا تمیم رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن سعید ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن سعید ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 9790
وَعَنْ حُصَيْنِ بْنِ مُشَمِّتِ ; أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَايَعَهُ بَيْعَةَ الْإِسْلَامِ ، وَصَدَّقَ إِلَيْهِ صَدَقَةَ مَالِهِ ، وَأَقْطَعَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِيَاهًا عِدَّةً بِالْمَرْوَثِ ، وَإِسْنَادُ حِرَادٍ مِنْهَا أُصَيْهِبُ ، وَمِنْهَا الْمَاعِزَةُ ، وَمِنْهَا أَهْوَادٍ ، وَمِنْهَا الْمِهَادُ ، وَمِنْهَا السَّدِيرَةُ وَشَرَطَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى حُصَيْنِ بْنِ مُشَمِّتٍ فِيمَا أَقْطَعَ لَهُ أَنْ لَا يَعْقِرَ مَرْعَاهُ ، وَلَا يُبَاعَ مَاؤُهُ ، وَلَا يَمْنَعَ فَضْلَهُ . فَقَالَ زُهَيْرُ بْنُ عَاصِمِ بْنِ حُصَيْنٍ شِعْرًا : ¤ إِنَّ بِلَادِي لَمْ تَكُنْ أَمْلَاسًا بِهِنَّ خَطُّ الْقَلَمِ الْأَنْقَاسَا مِنَ النَّبِيِّ حَيْثُ أَعْطَى النَّاسَا ¤ فَلَمْ يَدَعْ لَبْسًا وَلَا الْتِبَاسَا رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حصین بن مشمت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ ( لوگ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وفد کی شکل میں آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر اسلام قبول کر لیا انہوں نے اپنے مال کی زکوۃ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف پانیوں کو انہیں جاگیر کے طور پر دے دیا ، ” جو مروث “ میں تھے اور اسناد حراد میں تھے ، ان میں ایک ” اصیہب“ ہے ، ان میں سے ایک ” ماعزہ “ تھا ان میں سے ایک ” اہواد “ تھا ، ان میں سے ایک ” مہاد “ تھا ، ان میں سے ایک ” سدیرہ “ تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حصین بن مشمت رضی اللہ عنہ کو جو جاگیر تھی ، اس کے بارے میں ان پر یہ شرط عائد کی تھی کہ وہ وہاں کی چراگاہ کو ختم نہیں کریں گے ، اور وہاں کا پانی فروخت نہیں کریں گے ، اور وہاں کی اضافی چیز کو نہیں روکیں گے ۔ تو زہیر بن عاصم بن حصین نے یہ شعر کہے : میرا علاقہ ایسا نہیں ہے جہاں گھاس پھوس نہ ہو ، ان ( علاقوں ) کے بارے میں قلم کے ذریعے لکیریں لگائی گئی ہیں ( یعنی تحریر لکھی گئی ہے ) جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے ، جب آپ نے لوگوں کو عطیات دیے ، تو کوئی الجھن اور التباس باقی نہیں رہنے دیا “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 9791
وَعَنْ أَوْفَى بْنِ مَوَلَةَ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقْطَعَنِي الْعَمِيمَ ، وَشَرَطَ عَلَيَّ ابْنَ السَّبِيلِ أَوَّلَ رَيَّانٍ . ¤ وَأَقْطَعَ سَاعِدَةَ - رَجُلًا مِنَّا - بِئْرًا بِالْفَلَاةِ ، يُقَالُ لَهَا : الْجَعُوبِيَّةُ ، وَهِيَ بِئْرٌ يُخَبَّأُ فِيهَا الْمَالُ ، وَلَيْسَتْ بِالْمَاءِ الْعَذْبِ . ¤ وَأَقْطَعَ أُنَاسًا مُعَادَةَ الْعُرَى ، وَهِيَ دُونَ الْيَمَامَةِ . وَكُنَّا أَتَيْنَاهُ جَمِيعًا ، وَكَتَبَ لِكُلِّ رَجُلٍ مِنَّا بِذَلِكَ فِي أَدِيمٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اوفی بن مولہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے عمیم ( نامی جگہ ) مجھے جاگیر کے طور پر دے دی اور مجھ پر یہ شرط عائد کی کہ مسافر کو پہلی مرتبہ سیراب کرنا ہے ۔ آپ نے ہم میں سے ایک شخص ساعدہ کو بے آب و گیاہ جگہ میں ایک کنواں جاگیر کے طور پر دیا جس کا نام جعوبیہ تھا وہ ایک ایسا کنواں تھا ، جس میں مال چھپا کے رکھا گیا تھا وہ میٹھے پانی کا کنواں نہیں تھا آپ نے کچھ لوگوں کو معادہ العری جاگیر کے طور پر دیا تھا جو یمامہ سے پہلے ہے ہم سب وہاں آئے آپ نے ہم میں سے ہر ایک کے لئے چھڑے میں حکم تحریر کروایا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 9792
وَعَنْ رُزَيْنِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ : لَمَّا ظَهَرَ الْإِسْلَامُ ، وَلَنَا بِئْرٌ بِالدَّنِينَةِ خِفْنَا أَنْ يَغْلِبَنَا عَلَيْهَا مَنْ حَوْلَنَا قَالَ : فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ قَالَ : فَكَتَبَ لَنَا كِتَابًا : " مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ ، أَمَّا بَعْدُ : فَإِنَّ لَهُمْ بِئْرَهُمْ ، إِنْ كَانَ صَادِقًا " . ¤ قَالَ : فَمَا قَاضَيْنَا فِيهِ إِلَى أَحَدٍ مِنْ قُضَاةِ الْمَدِينَةِ ، إِلَّا قَضَوْا لَنَا بِهِ ، وَفِي كِتَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَكُونُ ، وَزَعَمَ أَنَّهُ كِتَابُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ فَهْدُ بْنُ عَوْفٍ أَبُو رَبِيعَةَ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رزین بن انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب اسلام غالب آ گیا تو دنینہ میں ہمارا ایک کنواں تھا ، ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ ہمارے اردگرد کے افراد اس پر قبضہ کر لیں گے راوی کہتے ہیں تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ہمارے لئے یہ تحریر لکھوائی اللہ کے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اما بعد ! یہ ان لوگوں کا کنواں ہے اگر یہ سچے ہیں “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد مدینہ منورہ کے جس بھی قاضی کے سامنے اس حوالے سے ہمارا مقدمہ پیش ہوا تو انہوں نے اس تحریر کی بنیاد پر ہمارے حق میں فیصلہ دیا ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تحریر موجود تھی اور ان لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تحریر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فہد بن عوف ابوربیعہ ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فہد بن عوف ابوربیعہ ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 9793
وَعَنْ أَبِي السَّائِبِ ، عَنْ جَدَّتِهِ - وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ - : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقْطَعَهَا بِئْرًا بِالْعَقِيقِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو السَّائِبِ ، قَالَ الذَّهَبِيُّ : مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوسائب اپنی دادی ، جو مہاجرین میں سے ایک ہیں ان کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عقیق میں موجود ایک کنواں انہیں جاگیر کے طور پر دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوسائب ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ مجہول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوسائب ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ مجہول ہے ۔
حدیث نمبر: 9794
وَعَنْ عُتَيْرٍ الْعُذْرِيِّ أَنَّهُ اسْتَقْطَعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْضًا بِوَادِي الْقُرَى ، فَهِيَ تُسَمَّى الْيَوْمَ بُوَيْرَةَ عُتَيْرٍ . قَالَ : وَرَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ نَزَلَ تَبُوكًا صَلَّى بِوَادِي الْقُرَى . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سُلَيْمُ بْنُ مُطَيْرٍ أَبُو حَاتَمٍ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عتیر عذری رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے وادی قری میں موجود ایک زمین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جاگیر کے طور پر مانگی آج اسے بویرہ عتیر کہا: جاتا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نے تبوک میں پڑاؤ کیا ہوا تھا ، تو آپ نے وادی قریٰ میں نماز ادا کی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیم بن مطیر ہے ۔ امام ابوحاتم اور ابن حبان نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیم بن مطیر ہے ۔ امام ابوحاتم اور ابن حبان نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 9795
وَعَنْ مُجَّاعَةَ قَالَ : أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُجَّاعَةَ بْنَ مَرَارَةَ مِنْ بَنِي سُلْمَى أَرْضًا بِالْيَمَامَةِ ، يُقَالُ لَهَا : الْعَوْزَةُ قَالَ : وَكَتَبَ لَهُ بِذَلِكَ كِتَابًا : " مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِمُجَّاعَةَ بْنِ مَرَارَةَ مِنْ بَنِي سُلْمَى : إِنِّي أَعْطَيْتُكَ الْعَوْزَةَ ، فَمَنْ خَالَفَنِي فِيهَا فَالنَّارَ " . وَكَتَبَ يَزِيدُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مجاعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا مجاعہ بن مرارہ رضی اللہ عنہ جن کا تعلق بنو سلمہ سے تھا انہیں یمامہ میں ایک زمین عطیہ کے طور پر دی جس کا نام عوزہ تھا ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں تحریر لکھوائی : یہ اللہ کے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مجاعہ بن مرارہ کے لئے ہے ، جو بنوسلمی سے تعلق رکھتا ہے میں تمہیں عوزہ دے رہا ہوں جو شخص اس بارے میں میرے حکم کی خلاف ورزی کرے گا ۔ تو اسے آگ نصیب ہو گی “ ۔ یہ تحریر یزید ( نامی صاحب ) نے لکھی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9796
وَعَنْ قَيْلَةَ بِنْتِ مَخْرَمَةَ ; أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ حَبِيبِ بْنِ أَزْهَرَ أَخِي بَنِي خَبَّابٍ ، فَوَلَدَتْ لَهُ النِّسَاءَ ، ثُمَّ تُوُفِّيَ ، فَانْتَزَعَ بَنَاتَهَا مِنْهَا أَيُّوبُ بْنُ أَزْهَرَ عَمُّهُنَّ ، فَخَرَجَتْ تَبْتَغِي الصَّحَابَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ ] فَبَكَتْ جُوَيْرِيَّةُ مِنْهُنَّ حُدَيْبَاءُ ، قَدْ كَانَتْ أَخَذَتْهَا الْفُرْصَةُ ، وَهِيَ أَصْغَرُهُنَّ ، عَلَيْهَا سَبِيجٌ لَهَا مِنْ صُوفٍ ، فَاحْتَمَلَتْهَا مَعَهَا ، فَبَيْنَمَا هُمَا يَرْتِكَانِ الْجَمَلَ انْتَفَجَتِ الْأَرْنَبُ ، فَقَالَتِ الْحُدَيْبَاءُ الْقَضِيَّةُ : لَا وَاللَّهِ ، لَا تَزَالُ كَعْبُكَ أَعْلَى مِنْ كَعْبِ أَيُّوبَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَبَدًا . ¤ ثُمَّ سَنَحَ الثَّعْلَبُ فَسَمَّتْهُ أَسْمَاءُ غَيْرَ الثَّعْلَبِ - نَسِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَسَّانَ - ثُمَّ قَالَتْ مَا قَالَتْ فِي الْأَرْنَبِ ، فَبَيْنَمَا هُمَا يَرْتِكَانِ إِذْ بَرَكَ الْجَمَلُ ، وَأَخَذَتْهُ رِعْدَةٌ ، فَقَالَتِ الْحُدَيْبَاءُ الْقَضِيَّةُ : أَدْرَكْتُ وَاللَّهِ أَخَذَهُ أَيُّوبُ . ¤ فَقُلْتُ : وَاضْطَرَبَ إِلَيْهَا ، وَيْحَكِ مَا أَصْنَعُ ؟ قَالَتْ : قَلِّبِي ثِيَابَكِ ظُهُورَهَا بُطُونَهَا ، وَتَدَحْرَجِي ظَهْرَكِ لِبَطْنِكِ ، وَقَلِّبِي أَحْلَاسَ جَمَلِكِ ، ثُمَّ خَلَعَتْ سَبِيجَهَا فَقَلَبَتْهُ ، وَتَدَحْرَجَتْ ظَهْرَهَا لِبَطْنِهَا ، فَلَمَّا فَعَلْتُ مَا أَمَرَتْنِي بِهِ ، انْتَفَضَ الْجَمَلُ ثُمَّ قَامَ فَتَفَاجَّ ، وَقَالَ : فَقَالَتِ الْحُدَيْبَاءُ : أَعِيدِي عَلَيْكِ أَدَاتَكِ . فَفَعَلْتُ مَا أَمَرَتْنِي بِهِ فَأَعَدْتُهَا . ¤ ثُمَّ خَرَجْنَا نَرْتِكُ ، فَإِذَا أَيُّوبُ يَسْعَى عَلَى أَثَرِنَا بِالسَّيْفِ صَلْتًا ، فَوَأَلْنَا إِلَى حِوَاءٍ ضَخْمٍ ، قَدْ أُرَاهُ حَتَّى أَلْقَى الْجَمَلَ إِلَى الْبَيْتِ الْأَوْسَطِ جَمَلٌ ذَلُولٌ ، فَاقْتَحَمْتُ دَاخِلَهُ بِالْجَارِيَةِ ، وَأَدْرَكَنِي بِالسَّيْفِ ، فَأَصَابَتْ ظَبْيَتُهُ طَائِفَةً مِنْ قُرُونِ رَأْسِي ، وَقَالَ : أَلْقِي إِلَيَّ بِنْتَ أَخِي يَا دَفَارُ . فَرَمَيْتُ بِهَا إِلَيْهِ ، فَجَعَلَهَا عَلَى مَنْكَبِهِ فَذَهَبَ بِهَا ، وَكُنْتُ أَعْلَمُ بِهِ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ ، وَمَضَيْتُ إِلَى أُخْتٍ لِي نَاكِحٍ فِي بَنِي شَيْبَانَ أَبْتَغِي الصَّحَابَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ . ¤ فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهَا ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنَ اللَّيَالِي تَحْسَبُ عَيْنَيَّ نَائِمَةً ، جَاءَ زَوْجُهَا مِنَ الشَّامِ فَقَالَ : وَأَبِيكِ ، لَقَدْ وَجَدْتُ لِقَيْلَةَ صَاحِبًا ، صَاحِبُ صِدْقٍ ، قَالَتْ : مَنْ هُوَ ؟ قَالَ : حُرَيْثُ بْنُ حَسَّانَ الشَّيْبَانِيُّ ، وَافِدُ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَا صَبَاحٍ . ¤ قَالَتْ أُخْتِي : الْوَيْلُ لِي لَا تُسْمِعْ [ بِهَذَا ] أُخْتِي ، فَتَخْرُجَ مَعَ أَخِي بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ بَيْنَ سَمْعِ الْأَرْضِ وَبَصَرِهَا لَيْسَ مَعَهَا مِنْ قَوْمِهَا رَجُلٌ ، فَقَالَ : لَا تَذْكُرِيهِ لَهَا ، فَإِنِّي غَيْرُ ذَاكِرِهِ لَهَا . فَسَمِعَتْ مَا قَالَا ، فَغَدَوْتُ فَشَدَدْتُ عَلَيَّ جَمَلِي فَوَجَدْتُهُ غَيْرَ بَعِيدٍ ، فَسَأَلْتُهُ الصُّحْبَةَ . فَقَالَ : نَعَمْ ، وَكَرَامَةً ، وَرِكَابُهُ مُنَاخَهُ ، فَخَرَجْتُ مَعَهُ صَاحِبَ صِدْقٍ حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْغَدَاةِ . ¤ وَقَدْ أُقِيمَتْ حِينَ شَقَّ الْفَجْرُ وَالنُّجُومُ شَابِكَةٌ فِي السَّمَاءِ ، وَالرِّجَالُ لَا تَكَادُ تُعْرَفُ مِنْ ظُلْمَةِ اللَّيْلِ ، فَصَفَفْتُ مَعَ الرِّجَالِ امْرَأَةً حَدِيثَةَ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ فَقَالَ لِي الرَّجُلُ الَّذِي يَلِينِي فِي الصَّفِّ : امْرَأَةٌ أَنْتِ أَمْ رَجُلٍ ؟ فَقُلْتُ : لَا بَلِ امْرَأَةٌ . فَقَالَ : إِنَّكِ قَدْ كِدْتِ تَفْتِنِينِي ، فَصَلِّي فِي صَفِّ النِّسَاءِ وَرَاءَكِ ، وَإِذَا صَفٌّ مِنْ نِسَاءٍ قَدْ حَدَثَ عِنْدَ الْحُجُرَاتِ لَمْ أَكُنْ رَأَيْتُهُ حِينَ دَخَلْتُ ، فَكُنْتُ فِيهِ حَتَّى إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ دَنَوْتُ . ¤ فَإِذَا رَأَيْتُ رَجُلًا ذَا رِوَاءٍ وَذَا بَشَرٍ طَمَحَ إِلَيْهِ بَصَرِي ، لِأَرَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوْقَ النَّاسِ ، حَتَّى جَاءَ رَجُلٌ بَعْدَمَا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " وَعَلَيْهِ أَسْمَالُ حِلْيَتَيْنِ قَدْ كَانَتَا بِزَعْفَرَانٍ ، وَقَدْ نُفِّضَتَا ، وَبِيَدِهِ عَسِيبُ نَخْلٍ مَقْشُوٌّ غَيْرَ خُوصَتَيْنِ مِنْ أَعْلَاهُ ، قَاعِدًا الْقُرْفُصَاءَ ، فَلَمَّا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمُتَخَشِّعَ فِي الْجِلْسَةِ ، أَرْعَدْتُ مِنَ الْفَرْقِ ، فَقَالَ لَهُ جَلِيسُهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْعَدَتِ الْمِسْكِينَةُ . ¤ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ يَنْظُرْ إِلَيَّ وَأَنَا عِنْدَ ظَهْرِهِ : " يَا مِسْكِينَةُ ، عَلَيْكِ السَّكِينَةُ " فَلَمَّا قَالَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَذْهَبَ اللَّهُ عَنِّي مَا كَانَ دَخَلَ فِي قَلْبِي مِنَ الرُّعْبِ ، فَتَقَدَّمَ صَاحِبِي أَوَّلُ رَجُلٍ حُرَيْثُ بْنُ حَسَّانَ فَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ ، وَعَلَى قَوْمِهِ ، ثُمَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اكْتُبْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ بَنِي تَمِيمٍ بِالدَّهْنَاءِ لَا يُجَاوِزُهَا إِلَيْنَا مِنْهُمْ إِلَّا مُسَافِرٌ أَوْ مُجَاوِرٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اكْتُبْ لَهُ بِالدَّهْنَاءِ يَا غُلَامُ " . ¤ فَلَمَّا رَأَيْتُهُ شَخَصَ لِي ، وَهِيَ وَطَنِي وَدَارِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ يَسْلُكِ السَّوِيَّةَ مِنَ الْأَمْرِ إِذْ سَلَكَ ، إِنَّمَا هَذِهِ الدَّهْنَاءُ عِنْدَ مَقِيلِ الْجَمَلِ ، وَمَرْعَى الْغَنَمِ ، وَنِسَاءُ بَنِي تَمِيمٍ وَأَبْنَاؤُهَا وَرَاءَ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " أَمْسِكْ يَا غُلَامُ ، صَدَقَتِ الْمِسْكِينَةُ ، الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ يَسَعُهُمَا الْمَاءُ وَالشَّجَرُ ، وَيَتَعَاوَنَانِ عَلَى الْفَتَّانِ " . ¤ فَلَمَّا رَأَى حُرَيْثٌ أَنْ قَدْ حِيلَ دُونَ كِتَابِهِ ، ضَرَبَ إِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى ثُمَّ قَالَ : كُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ كَمَا قَالَ : حَتْفُهَا تَحْمِلُ ضَأْنٌ بِأَظْلَافِهَا ، فَقَالَتْ : وَاللَّهِ ، مَا عَلِمْتُ إِنْ كُنْتَ لَدَلِيلًا فِي الظَّلْمَاءِ ، مِدْوَلًا لَدَى الرَّحْلِ ، عَفِيفًا عَنِ الرَّفِيقَةِ ، حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَكِنْ لَا تَلُمْنِي عَلَى أَنْ أَسْأَلَ حَظِّي إِذْ سَأَلْتَ حَظَّكَ ، قَالَ : وَمَا حَظُّكِ فِي الدَّهْنَاءِ لَا أَبَا لَكِ ؟ قُلْتُ : مَقِيلُ جَمَلِي تَسْأَلُهُ لِجَمَلِ امْرَأَتِكَ . قَالَ : لَا جَرَمَ ، أُشْهِدُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنِّي لَكِ أَخٌ وَصَاحِبٌ مَا حَيِيتُ ، إِذَا ثَنَّيْتُ عَلَى هَذَا عِنْدَهُ ، قُلْتُ : إِذْ بَدَأْتُهَا فَلَنْ أُضَيِّعَهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيُلَامُ ابْنُ هَذِهِ أَنْ يُفَصِّلَ الْخِطَّةَ ، وَيَنْصُرَ مِنْ وَرَاءِ الْحُجْرَةِ ؟ " . ¤ فَبَكَيْتُ ثُمَّ قُلْتُ : قَدْ وَاللَّهِ ، وَلَدْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَرَامًا ، فَقَاتَلَ مَعَكَ يَوْمَ الرِّبْذَةِ ، ثُمَّ ذَهَبَ بِمِيرَتِي مِنْ خَيْبَرَ ، فَأَصَابَتْهُ حُمَّاهَا فَمَاتَ ، فَتَرَكَ عَلِيَّ النِّسَاءَ . ¤ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ لَمْ تَكُونِي مِسْكِينَةً لَجَرَرْنَاكِ عَلَى وَجْهِكِ - أَوْ لَجُرِرْتِ عَلَى وَجْهِكِ - شَكَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَسَّانَ أَيُّ الْحَرْفَيْنِ حَدَّثَتْهُ الْمَرْأَتَانِ - أَتَغْلِبُ إِحْدَاكُنَّ أَنْ تُصَاحِبَ صُوَيْحِبَهُ فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا ؟ فَإِذَا حَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ مَنْ هُوَ أَوْلَى بِهِ مِنْهُ اسْتَرْجَعَ ، ثُمَّ قَالَ : رَبِّ آسِنِّي لِمَا أَمْضَيْتَ ، فَأَعِنِّي عَلَى مَا أَبْقَيْتَ ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَبْكِي فَيَسْتَعْبِرُ لَهُ صُوَيْحِبُهُ ، فَيَا عِبَادَ اللَّهِ لَا تُعَذِّبُوا مَوْتَاكُمْ " . ثُمَّ كَتَبَ لَهَا فِي قِطْعَةِ أَدِيمٍ أَحْمَرَ : " لِقَيْلَةَ وَالنِّسْوَةِ مِنْ بَنَاتِ قَيْلَةَ لَا يُظْلَمْنَ حَقًّا ، وَلَا يُكْرَهْنَ عَلَى مُنْكِحٍ ، وَكُلُّ مُؤْمِنٍ وَمُسْلِمٍ لَهُنَّ نَصِيرٌ ، أَحْسِنَّ وَلَا تُسِئْنَ " . ¤ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ : فَسَّرَهُ لَنَا ابْنُ عَائِشَةَ ، فَقَالَ : الْفُرْصَةُ : ذَاتُ الْحَدَبِ ، وَالْفُرْصَةُ : الْقِطْعَةُ مِنَ الْمِسْكِ ، وَالْفُرْصَةُ : الدَّوْلَةُ ، انْتَهِزْ فُرْصَتَكَ ، أَيْ : دَوْلَتَكَ . ¤ السَّبِيجُ : سَمَلُ كِسَاءٍ . الرَّتَكَانُ : ضَرْبٌ مِنَ السَّيْرِ . الِانْتِفَاجُ : السَّعْيُ . شَنَحَ : أَيْ وَلَّاكَ مَيَامِنَهُ ، وَبَعْضُ الْعَرَبِ يَجْعَلُ مَيَاسِرَهُ ، وَهُمْ يَتَطَيَّرُونَ بِأَحَدِهِمَا وَيَتَفَاءَلُونَ بِالْآخَرِ . تَفَاجَّ : تَفَتَّحَ . فَوَأَلْنَا : أَيْ لَجَأْنَا إِلَى حِوَاءٍ . يَا دَفَارُ : يَا مُنْتِنَةُ ، مِنْ ذَلِكَ قَوْلُ الْعَرَبِ فِي الدُّنْيَا : أُمُّ دَفْرٍ لِنَتِنِهَا . ثُمَّ سَدَّتْ عَنْهُ : اسْتَخْبَرَتْ عَنْهُ . الْمَقْشُوُّ : الْمَقْشُورُ . الْفَتَّانُ : الشَّيَاطِينُ وَأَحَدُهَا فَاتِنٌ . ¤ " حَتْفُهَا تَحْمِلُ ضَأْنٌ بِأَظْلَافِهَا " : مَثَلٌ مِنْ أَمْثَالِ الْعَرَبِ فِي شَاةٍ بَحَثَتْ بِأَظْلَافِهَا فِي الْأَرْضِ ، فَأَظْهَرَتْ مُدْيَةً ، فَذُبِحَتْ بِهَا ، فَصَارَ مَثَلًا . ¤ الْقَضِيَّةُ : انْقِضَاءُ الْأُمُورِ . شَخَصَ : أَيِ ارْتَفَعَ بَصَرِي . فَكَسْرًا : مِنْ إِكْسَارِ مَا سَمِعَتْ . آسِنِّي : أَيِ اجْعَلْ لِي أُسْوَةً بِمَا تَعِظُنِي بِهِ ، قَالَ مُتَمِّمُ بْنُ نُوَيْرَةَ : ¤ فَقُلْتُ لَهَا طُولَ الْأَسَى إِذْ سَأَلَتْنِي وَلَوْعَةُ حُزْنٍ تَتْرُكُ الْوَجْهَ أَسْفَعَا . أَسَفَعُ : أَيْ أَسْوَدُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ قیلہ بنت مسلمہ رضی اللہ عنہا جو سیدنا حبیب بن ازہر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں جن کا تعلق بنو خباب سے تھا ان کی بیٹیاں پیدا ہوئیں پھر ان صاحب کا انتقال ہو گیا ان بچیوں کے چچا ایوب بن ازہر نے اس خاتون کی بیٹیوں کو ان سے جدا کروا دیا ، تو وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے نکلی یہ ابتداء اسلام کی بات ہے ان کی بیٹیوں میں سے ایک بچی جس کا نام حدیباء تھا ، وہ رونے لگی اس پر کپکپی طاری ہو گئی ، اور وہ ان میں سب سے کمسن تھی ۔ اس نے اونی لباس پہنا ہوا تھا اس خاتون نے اسے گود میں اٹھا لیا ، انہوں نے اس لڑکی کو بھی اپنے ساتھ سوار کر لیا ، وہ دونوں اونٹ پر سوار ہو کر جا رہی تھیں ، اسی دوران ایک خرگوش آیا ، تو حدیباء نے کہا: جی نہیں ! اللہ کی قسم ! اس بارے میں ہمیشہ تمہارا ٹخنہ ایوب کے ٹخنی سے بلند رہے گا ، پھر ایک لومڑی سامنے آئی ، تو اس نے اُس کے لئے مختلف نام استعمال کیا ، جو عبداللہ بن حسان نامی راوی بھول گئے ، پھر اس نے اس کے بارے میں بھی وہی بات کہی ، جو خرگوش کے بارے میں کہی تھی ، وہ دونوں جا رہے تھے اسی دوران اونٹ بیٹھ گیا اور اس پر کپکپی طاری ہو گئی ، تو حدیباء نے کہا: مجھے وہ صورت حال نصیب ہوئی ہے ، اللہ کی قسم ! جس نے ایوب کو گرفت میں لیا تھا ، میں نے کہا: یہ تو مضطرب ہو رہا ہے ، اب میں کیا کروں ؟ تمہارا ستیاناس ہو ، اس نے کہا: آپ اپنے کپڑے کو الٹ دیں اندر والے حصے کو باہر کر دیں اور پشت والے حصے کو پیٹ کی طرف کر دیں آپ اپنے اونٹ کی چادر کو پلٹ دیں ، پھر اس کے اوپر والے کپڑے کو اتار کر اسے پلٹ دیں ، اس کے اندرونی حصے کو باہر کی طرف کر دیں اس نے جو مجھے کہا: تھا ۔ جب میں نے ایسا کر دیا ، تو اونٹ ٹھیک ہو گیا اور کھڑا ہو گیا اور چل پڑا ، پھر حدبیاء نے کہا: آپ اپنے برتن دوبارہ استعمال کریں میں نے ایسا ہی کیا جو اس نے مجھے کہا: تھا ، پھر ہم لوگ روانہ ہو گئے ایوب تلوار نکال کر ہمارے پیچھے پیچھے دوڑتا ہوا آ رہا تھا ، ہم نے ایک بڑی آبادی کی پناہ لی اس کے بارے میں میرا یہ خیال تھا یہاں تک کہ میں نے اونٹ کو درمیان والے گھر میں ڈال دیا جو ایک کمزور اونٹ تھا میں لڑکی کو ساتھ لے کے اس کے اندر داخل ہو گئی وہ تلوار لے کے مجھ تک پہنچ گیا اس نے کچھ بکریوں کو نقصان پہنچایا اور بولا: تم میری بھتیجی میری طرف کر دو ، اے بو بدبو دار عورت ! تو وہ اس کے کندھے پر گئی ، وہ اسے لے کے چلا گیا میں اس کے بارے میں سب گھر والوں سے زیادہ بہتر جانتی تھی ۔ پھر میں اپنی بہن کے پاس آ گئی جس کی شادی بنو شیبان میں ہوئی تھی ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جانے کے لئے کسی ساتھی کی تلاش میں تھی ، یہ ابتدائے اسلام کی بات ہے ایک رات میں اپنی بہن کے پاس بیٹھی ہوئی تھی ، وہ یہ سمجھی کہ شاید میں سو چکی ہوں اس کا شوہر شام سے آیا تھا اس نے کہا: تمہارے باپ کی قسم میں نے قیلہ کے لئے ایک ساتھی کو پایا تھا جو سچا ساتھی تھا میری بہن نے دریافت کیا : وہ کون ہے ؟ اس نے جواب دیا : حریث بن حسان شیبانی جو بکر بن وائل کے سفیر کے طور پر آج صبح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے گیا ہے ۔ میری بہن نے کہا: میرے لئے بربادی ہے تم میری بہن کو یہ بات نہ سنوانا کاش وہ بھی بکر بن وائل سے تعلق رکھنے والے فرد کے ساتھ روانہ ہو جاتی ، کیونکہ اس کے ساتھ قوم کا کوئی فرد نہیں ہے اس شخص نے کہا: تم اس کے سامنے اس کا ذکر نہ کرنا میں بھی اس کا ذکر نہیں کروں گا لیکن قیلہ نامی خاتون نے ان دونوں کی باتیں سن لیں تھیں وہ کہتی ہیں میں اگلے دن صبح اٹھی میں نے اپنے اونٹ پر پالان باندھا اور ان صاحب تک پہنچ گئی ، جو زیادہ دور تک نہیں گئے تھے میں نے ان کے ساتھ چلنے کا کہا: تو انہوں نے کہا: ٹھیک ہے یہ عزت افزائی کی بات ہے پھر میں ان کے ساتھ روانہ ہو گئی وہ ایک سچے ساتھی تھے ، یہاں تک کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے جس کی اقامت اس وقت کہی تھی جب صبح صادق ہو گئی تھی اور آسمان میں ستارے چمک رہے تھے رات کی تاریکی کی وجہ سے افراد پہچانے نہیں جاتے تھے میں ایک ایسی عورت تھی جو زمانہ جاہلیت کے قریب تھی میں مردوں کی صف میں جا کے کھڑی ہو گئی صف میں جو شخص میرے ساتھ کھڑا ہوا تھا اس نے مجھ سے دریافت کیا : تم عورت ہو یا مرد ہو ؟ میں نے کہا: عورت ہوں اس نے کہا: تم نے مجھے آزمائش کا شکار کر دینا تھا تم اپنے پیچھے خواتین کی صف میں نماز ادا کرو خواتین کی صف حجروں کے قریب تھی جب میں اندر آئی تھی تو میں نے اسے نہیں دیکھا تھا میں اس میں آ گئی ، یہاں تک کہ جب سورج طلوع ہو گیا تو میں پاس آ گئی میں نے ایک صاحب کو دیکھا جو نمایاں حیثیت کے مالک تھے میری نگاہ ان پر جم گئی تاکہ لوگوں کے اوپر سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ سکوں سورج طلوع ہو جانے کے بعد ایک شخص آیا اور بولا: یا رسول اللہ آپ پر سلام ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پر بھی سلام ہو اور اللہ کی رحمت ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چادریں اوڑھی ہوئی تھیں جن پر زعفران لگا ہوا تھا ، جس کی خوشبو بھی آ رہی تھی آپ کے دست مبارک میں کھجور کی ایک چھڑی تھی جو صاف کی ہوئی تھی لیکن اس کے اوپر والے حصے کو اندر نہیں کیا گیا تھا ، اور آپ اکڑوں بیٹھے ہوئے تھے جب میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح عاجزی کے ساتھ بیٹھے ہوئے دیکھا تو مجھ پر رعب طاری ہو گیا آپ کے ساتھی نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ مسکین عورت پریشان ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا حالانکہ آپ نے میری طرف دیکھا نہیں تھا ، کیونکہ میں آپ کی پشت کی طرف موجود تھی اے مسکین عورت تم پرسکون رہو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تو میرے دل میں جو رعب داخل ہوا تھا وہ اللہ تعالیٰ نے ختم کر دیا میرا ساتھی آگے بڑھا وہ پہلا فرد تھا اس کا نام حریث بن حسان تھا اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر اپنی طرف سے بیعت کی پھر اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمارے اور بنو تمیم کے درمیان دہناء کو حد مقرر کر دیں کہ ان میں سے کوئی شخص مسافر کے طور پر یا گزرنے والے شخص کے طور پر ہی ہماری طرف آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے لڑکے ! اس کے لئے دہناء کے حوالے سے تحریر لکھ دو ۔ راوی خاتون کہتی ہیں : جب میں نے یہ بات دیکھی تو یہ بات میرے سامنے آئی کہ وہ تو میرا وطن اور میرا علاقہ ہے ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس شخص نے ٹھیک بات نہیں کی ہے دہناء نامی یہ جگہ اونٹوں کے آرام کی جگہ ہے بکریوں کے چرنے کی جگہ ہے بنو تمیم کے بچے اور عورتیں اس کے پاس رہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے لڑکے تم ٹھہر جاؤ مسکین عورت تم ٹھہر جاؤ مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے پانی اور درخت ان دونوں کے لئے ہوتے ہیں اور وہ دونوں شیاطین کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں جب حریث نامی شخص نے یہ دیکھا کہ میری وجہ سے اس کے لئے تحریر لکھی نہیں جا رہی تو اس نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے پر مارتے ہوئے کہا: میری اور تمہاری مثال یوں ہے کہ جیسے کوئی بکری اپنے پاؤں کے ذریعے زمین کھود کر چھری نکال کے خود کو ذبح کروا لیتی ہے اس خاتون نے کہا: اللہ کی قسم ! میں یہ جانتی ہوں کہ تم تاریکیوں میں راستہ بتانے والے ہو سواری کا ساتھ دینے والے ہو اپنی ساتھی خاتون کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے والے ہو یہاں تک کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے لیکن تم مجھے اس چیز کے حوالے سے ملامت نہ کرو کہ میں اپنا وہ حصہ مانگوں جس طرح تم نے اپنا حصہ مانگا ہے اس نے کہا: دہناء میں تمہارا حصہ کیسے بنتا ہے ؟ تمہارا باپ نہ رہے میں نے کہا: وہ میرے اونٹوں کے باندھنے کی جگہ ہے جس کو تم اپنی بیوی کے اونٹ کے لئے مانگ رہے ہو اس نے کہا: اس میں کوئی شک نہیں ہے میں اللہ کے رسول کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ جب تک میں زندہ رہوں گا میں تمہارا بھائی اور ساتھی بن کے رہوں گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا اس عورت کے بیٹے کو اس بات پر ملامت کی جائے گی کہ وہ لکیر کے ذریعے فصل کر دے اور حجرے کے پیچھے سے مدد کرے وہ خاتون کہتی ہیں ، تو میں رونے لگی اور میں نے عرض کی : اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! میں نے اسے حرام طور پر جنم دیا تھا اس نے ربذہ کے مقام پر آپ کے ساتھ جنگ میں حصہ لیا تھا پھر وہ خیبر چلا گیا تھا وہاں اسے بخار لاحق ہو گیا اور وہاں وہ مر گیا اور میرے پاس خواتین رہ گئی ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اگر تم مسکین عورت نہ ہوتی ، تو ہم نے تمہیں تمہارے چہرے کے بل گھسیٹنا تھا ، کیا تم خواتین میں سے کوئی عورت ایسا نہیں کر سکتی کہ وہ دنیا میں اپنی بیٹیوں کے ساتھ اچھے طریقے سے رہے اور جب اس کے اور اس کے درمیان وہ حائل ہو جائے ، جو ان کے بارے میں اس سے زیادہ حق رکھتا ہے ، تو پھر وہ انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھے اور پھر یہ کہے : اے میرے پروردگار ! جو پہلے گزر گیا ہے اس کو میرے لئے اسوہ بنا دے اور جو باقی رہ گیا ہے اس کے بارے میں میری مدد فرما ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تم میں سے کوئی ایک روتی ہے اور اپنی بیٹیوں کے حوالے سے پریشان ہوتی رہتی ہے ، اے اللہ کے بندو ! تم اپنے مرحومین کو عذاب نہ دو ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کے لئے سرخ چمڑے پر ایک تحریر لکھوائی : ” یہ قیلہ اور قیلہ کی صاحبزادیوں میں سے دیگر خواتین کے لئے ہے کہ ان کے حق میں ظلم نہیں کیا جائے گا ، نکاح کرنے میں ان کے ساتھ زبردستی نہیں کی جائے گی ، ہر مومن اور ہر مسلمان اُن کا مددگار ہو گا ، تم لوگوں نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ہے برا سلوک نہیں کرنا“ ۔ محمد بن ہشام نامی راوی کہتے ہیں : ابن عائشہ نے اس روایت کے مشکل الفاظ کی وضاحت ہمارے سامنے کی تھی ، وہ کہتے ہیں : فرصہ کا مطلب ابھری ہوئی چیز ہے ، اور ” فرصہ “ کا مطلب مشک کا ٹکڑا بھی ہے فرصہ کا مطلب دولہ بھی ہے ، لفظ انتہز فرصتک کا مطلب ، یعنی دولتک ہے ، سچ کا مطلب چادر کا پرانا ہوتا ہے ” تکان “ کا مطلب چلنے کی ایک قسم ہے ” انتفاج“ کا مطلب دوڑتا ہے لفظ ” شخ“ کا مطلب یہ ہے کہ اس نے وہاں کے دائیں حصے کا تمہیں والی بنایا ہے ، بعض عرب اسے بائیں حصے کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں وہ ایک حصے کے ذریعے فال لیتے ہیں اور دوسرے حصے کے ذریعے بدشگونی لیتے ہیں ، لفظ ” تفاج“ کا مطلب کھلا کرنا ہے ، لفظ ” فوالنا “ یعنی ہم نے پناہ لی یادفار “” “” کا مطلب اے بد بودار عورت ! اسی لئے عرب دنیا کے بارے میں کہتے ہیں : ” اُم دفر “ کیونکہ اس کی بدبو ہوتی ہے ، ثم ” سدت عنہ “ یعنی اس کے بارے میں خبر طلب کی ، لفظ ” مقشو“ کا مطلب مقشور ہے ( یعنی جس کا چھلکا اترا ہوا ہو ) ” فتان“ کا مطلب شیاطین ہے ، اس کی واحد ” فاتن “ آتی ہے لفظ ” حتفھا تحمل ضان باظلافھا “ یہ عربوں کا ایک محاروہ ہے ایک ایسی بکری کے بارے میں جو اپنے پیروں کے ذریعے زمین کرید رہی ہوتی ہے اس میں سے چھری نکل آتی ہے اور اس کے ذریعے وہ بکری ذبح ہو جاتی ہے ، تو یہ چیز ضرب المثل بن گئی ( یعنی اپنا نقصان خود کرنا ) ۔ ” قضیہ “ یعنی امور کا ختم ہو جانا ” شخص “ یعنی میں نے اپنی نگاہ کو اٹھایا ، ” فکسرا “ یعنی اس نے جو سنا ہے اسے ختم کرنے کے لئے ” اسنی “ یعنی آپ مجھے اسوہ بنا دیں ، جس کے حوالے سے آپ مجھے نصیحت کریں ۔ متمم بن نویرہ نے کہا: ہے : ” جب اس نے مجھ سے ( حال ) دریافت کیا ، تو میں نے اس سے کہا: طویل اسوہ ہے ، غم کی جلن نے چہرے کو سیاہ کر دیا ہوا ہے “ ۔ لفظ ” اسفع“ کا مطلب سیاہ ہونا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔