مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يُقْطَعُ مِنَ الْأَرَاضِي وَالْمِيَاهِ . باب: زمین یا پانیوں کو جاگیر کے طور پر دینا
حدیث نمبر: 9794
وَعَنْ عُتَيْرٍ الْعُذْرِيِّ أَنَّهُ اسْتَقْطَعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْضًا بِوَادِي الْقُرَى ، فَهِيَ تُسَمَّى الْيَوْمَ بُوَيْرَةَ عُتَيْرٍ . قَالَ : وَرَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ نَزَلَ تَبُوكًا صَلَّى بِوَادِي الْقُرَى . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سُلَيْمُ بْنُ مُطَيْرٍ أَبُو حَاتَمٍ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عتیر عذری رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے وادی قری میں موجود ایک زمین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جاگیر کے طور پر مانگی آج اسے بویرہ عتیر کہا: جاتا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نے تبوک میں پڑاؤ کیا ہوا تھا ، تو آپ نے وادی قریٰ میں نماز ادا کی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیم بن مطیر ہے ۔ امام ابوحاتم اور ابن حبان نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔