حدیث نمبر: 9792
وَعَنْ رُزَيْنِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ : لَمَّا ظَهَرَ الْإِسْلَامُ ، وَلَنَا بِئْرٌ بِالدَّنِينَةِ خِفْنَا أَنْ يَغْلِبَنَا عَلَيْهَا مَنْ حَوْلَنَا قَالَ : فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ قَالَ : فَكَتَبَ لَنَا كِتَابًا : " مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ ، أَمَّا بَعْدُ : فَإِنَّ لَهُمْ بِئْرَهُمْ ، إِنْ كَانَ صَادِقًا " . ¤ قَالَ : فَمَا قَاضَيْنَا فِيهِ إِلَى أَحَدٍ مِنْ قُضَاةِ الْمَدِينَةِ ، إِلَّا قَضَوْا لَنَا بِهِ ، وَفِي كِتَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَكُونُ ، وَزَعَمَ أَنَّهُ كِتَابُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ فَهْدُ بْنُ عَوْفٍ أَبُو رَبِيعَةَ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا رزین بن انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب اسلام غالب آ گیا تو دنینہ میں ہمارا ایک کنواں تھا ، ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ ہمارے اردگرد کے افراد اس پر قبضہ کر لیں گے راوی کہتے ہیں تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ہمارے لئے یہ تحریر لکھوائی اللہ کے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اما بعد ! یہ ان لوگوں کا کنواں ہے اگر یہ سچے ہیں “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد مدینہ منورہ کے جس بھی قاضی کے سامنے اس حوالے سے ہمارا مقدمہ پیش ہوا تو انہوں نے اس تحریر کی بنیاد پر ہمارے حق میں فیصلہ دیا ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تحریر موجود تھی اور ان لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تحریر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فہد بن عوف ابوربیعہ ہے اور وہ کذاب ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9792
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7178) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4630)»