مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يُقْطَعُ مِنَ الْأَرَاضِي وَالْمِيَاهِ . باب: زمین یا پانیوں کو جاگیر کے طور پر دینا
وَعَنْ أَوْفَى بْنِ مَوَلَةَ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقْطَعَنِي الْعَمِيمَ ، وَشَرَطَ عَلَيَّ ابْنَ السَّبِيلِ أَوَّلَ رَيَّانٍ . ¤ وَأَقْطَعَ سَاعِدَةَ - رَجُلًا مِنَّا - بِئْرًا بِالْفَلَاةِ ، يُقَالُ لَهَا : الْجَعُوبِيَّةُ ، وَهِيَ بِئْرٌ يُخَبَّأُ فِيهَا الْمَالُ ، وَلَيْسَتْ بِالْمَاءِ الْعَذْبِ . ¤ وَأَقْطَعَ أُنَاسًا مُعَادَةَ الْعُرَى ، وَهِيَ دُونَ الْيَمَامَةِ . وَكُنَّا أَتَيْنَاهُ جَمِيعًا ، وَكَتَبَ لِكُلِّ رَجُلٍ مِنَّا بِذَلِكَ فِي أَدِيمٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدنا اوفی بن مولہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے عمیم ( نامی جگہ ) مجھے جاگیر کے طور پر دے دی اور مجھ پر یہ شرط عائد کی کہ مسافر کو پہلی مرتبہ سیراب کرنا ہے ۔ آپ نے ہم میں سے ایک شخص ساعدہ کو بے آب و گیاہ جگہ میں ایک کنواں جاگیر کے طور پر دیا جس کا نام جعوبیہ تھا وہ ایک ایسا کنواں تھا ، جس میں مال چھپا کے رکھا گیا تھا وہ میٹھے پانی کا کنواں نہیں تھا آپ نے کچھ لوگوں کو معادہ العری جاگیر کے طور پر دیا تھا جو یمامہ سے پہلے ہے ہم سب وہاں آئے آپ نے ہم میں سے ہر ایک کے لئے چھڑے میں حکم تحریر کروایا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔