مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يُقْطَعُ مِنَ الْأَرَاضِي وَالْمِيَاهِ . باب: زمین یا پانیوں کو جاگیر کے طور پر دینا
وَعَنْ حُصَيْنِ بْنِ مُشَمِّتِ ; أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَايَعَهُ بَيْعَةَ الْإِسْلَامِ ، وَصَدَّقَ إِلَيْهِ صَدَقَةَ مَالِهِ ، وَأَقْطَعَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِيَاهًا عِدَّةً بِالْمَرْوَثِ ، وَإِسْنَادُ حِرَادٍ مِنْهَا أُصَيْهِبُ ، وَمِنْهَا الْمَاعِزَةُ ، وَمِنْهَا أَهْوَادٍ ، وَمِنْهَا الْمِهَادُ ، وَمِنْهَا السَّدِيرَةُ وَشَرَطَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى حُصَيْنِ بْنِ مُشَمِّتٍ فِيمَا أَقْطَعَ لَهُ أَنْ لَا يَعْقِرَ مَرْعَاهُ ، وَلَا يُبَاعَ مَاؤُهُ ، وَلَا يَمْنَعَ فَضْلَهُ . فَقَالَ زُهَيْرُ بْنُ عَاصِمِ بْنِ حُصَيْنٍ شِعْرًا : ¤ إِنَّ بِلَادِي لَمْ تَكُنْ أَمْلَاسًا بِهِنَّ خَطُّ الْقَلَمِ الْأَنْقَاسَا مِنَ النَّبِيِّ حَيْثُ أَعْطَى النَّاسَا ¤ فَلَمْ يَدَعْ لَبْسًا وَلَا الْتِبَاسَا رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدنا حصین بن مشمت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ ( لوگ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وفد کی شکل میں آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر اسلام قبول کر لیا انہوں نے اپنے مال کی زکوۃ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف پانیوں کو انہیں جاگیر کے طور پر دے دیا ، ” جو مروث “ میں تھے اور اسناد حراد میں تھے ، ان میں ایک ” اصیہب“ ہے ، ان میں سے ایک ” ماعزہ “ تھا ان میں سے ایک ” اہواد “ تھا ، ان میں سے ایک ” مہاد “ تھا ، ان میں سے ایک ” سدیرہ “ تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حصین بن مشمت رضی اللہ عنہ کو جو جاگیر تھی ، اس کے بارے میں ان پر یہ شرط عائد کی تھی کہ وہ وہاں کی چراگاہ کو ختم نہیں کریں گے ، اور وہاں کا پانی فروخت نہیں کریں گے ، اور وہاں کی اضافی چیز کو نہیں روکیں گے ۔ تو زہیر بن عاصم بن حصین نے یہ شعر کہے : میرا علاقہ ایسا نہیں ہے جہاں گھاس پھوس نہ ہو ، ان ( علاقوں ) کے بارے میں قلم کے ذریعے لکیریں لگائی گئی ہیں ( یعنی تحریر لکھی گئی ہے ) جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے ، جب آپ نے لوگوں کو عطیات دیے ، تو کوئی الجھن اور التباس باقی نہیں رہنے دیا “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔