حدیث نمبر: 9789
وَعَنْ أَبِي هِنْدٍ الدَّارِيِّ ; أَنَّهُمْ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُمْ سِتَّةُ نَفَرٍ : أَوْسُ بْنُ خَارِجَةَ بْنِ سَوَادَانَ بْنِ جُذَيْمَةَ بْنِ ذَرَّاعِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الدَّارِ ، وَأَخُوهُ : تَمِيمُ بْنُ أَوْسٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ قَيْسٍ ، وَأَبُو هِنْدٍ [ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَخُوهُ الطَّيِّبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ، وَفَاكِهَ بْنَ ] النُّعْمَانِ ، فَأَسْلَمُوا ، وَسَأَلُوهُ أَنْ يُعْطِيَهُمْ أَرْضًا مِنْ أَرْضِ الشَّامِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَلُوا حَيْثُ أَحْبَبْتُمْ " . ¤ فَنَهَضُوا مِنْ عِنْدِهِ يَتَشَاوَرُونَ فِي مَوْضِعٍ يَسْأَلُونَهُ إِيَّاهُ ، فَقَالَ تَمِيمٌ : أَرَى أَنْ نَسْأَلَهُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ وَكَوْرَتَهَا ، فَقَالَ أَبُو هِنْدٍ : أَرَأَيْتَ مَلِكَ الْعَجَمِ الْيَوْمَ ، أَلَيْسَ هُوَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ ؟ قَالَ تَمِيمٌ : نَعَمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ زِيَادُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہند داری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ لوگ چھ افراد تھے اوس بن خارجہ بن سودان بن جذیمہ بن زار بن عدی بن دار ، ان کے بھائی تمیم بن اوس ، یزید بن قیس ، ابوہند بن عبداللہ ، ان کے بھائی طبیب بن عبداللہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام عبدالرحمن رکھا تھا ، اور فاکہ بن نعمان ان حضرات نے اسلام قبول کر لیا انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کی کہ وہ شام کی زمین میں سے ایک زمین انہیں عطا کر دیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جہاں کے بارے میں چاہو مانگ لو وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ کر گئے ، اور اس جگہ کے بارے میں باہمی مشورہ کرنے لگے ، جو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگیں گے تو سیدنا تمیم رضی اللہ عنہ نے کہا: میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیت المقدس اور اس کے آس پاس کا علاقہ مانگ لیتے ہیں ، تو سیدنا ابوہند رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہارا کیا خیال ہے آج عجمیوں کی حکومت ، کیا وہ بیت المقدس میں نہیں ہے ، تو سیدنا تمیم رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن سعید ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9789
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً