حدیث نمبر: 978
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ : " هَذَا أَوَانُ يُرْفَعُ الْعِلْمُ " فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ - يُقَالُ لَهُ : زِيَادُ بْنُ لَبِيدٍ - : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَيْفَ وَقَدْ أُثْبِتَ وَوَعَتْهُ الْقُلُوبُ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ كُنْتُ لَأَحْسَبُكَ مِنْ أَفْقَهِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ " ، ثُمَّ ذَكَرَ ضَلَالَةَ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى عَلَى مَا فِي أَيْدِيهِمْ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ ، قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ : كَانَ ثِقَةً مَأْمُونًا . وَضَعَّفَهُ الْبَاقُونَ . ¤ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَزَادَ : قَالَ جُبَيْرُ بْنُ نُفَيْرٍ : فَلَقِيتُ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ ، فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثَ عَوْفٍ فَقَالَ : صَدَقَ عَوْفٌ أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَوَّلِ ذَلِكَ ؟ يُرْفَعُ الْخُشُوعُ ، لَا تَرَى خَاشِعًا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا : یہ وہ وقت ہے جس میں علم کو اٹھا لیا جائے گا ، انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کا نام زیاد بن لبید تھا ، انہوں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ کیسے ہو گا ؟ جبکہ وہ ( یعنی علم ) مضبوط ہو گا اور دلوں نے اُسے محفوظ رکھا ہو گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا : میں تو تمہیں اہل مدینہ کے سمجھدار افراد میں سے ایک شمار کرتا تھا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا ذکر کیا کہ یہودی اور عیسائی بھی گمراہی کا شکار ہو گئے تھے ، حالانکہ اللہ کی کتاب ان کے درمیان موجود تھی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے ، عبدالملک بن شعیب فرماتے ہیں : وہ ثقہ اور مامون ہے ، باقی لوگوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسی طرح نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : جبیر بن نفیر بیان کرتے ہیں : میری ملاقات سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، میں نے انہیں سیدنا عوف کی نقل کردہ روایت سنائی ، تو انہوں نے فرمایا : سیدنا عوف نے سچ بیان کیا ہے ، کیا میں تمہیں ( اُٹھا لی جانے والی ) سب سے پہلی چیز کے بارے میں بتاؤں ؟ ( سب سے پہلے ) خشوع کو اٹھا لیا جائے گا ، تمہیں خشوع والا ( کوئی بھی شخص ) نظر نہیں آئے گا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 978
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 43/1844 اورده المؤلف فى كشف الاستار 232»