مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يُقْطَعُ مِنَ الْأَرَاضِي وَالْمِيَاهِ . باب: زمین یا پانیوں کو جاگیر کے طور پر دینا
عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اكْتُبْ لِي بِكَذَا وَكَذَا لِأَرْضٍ مِنَ الشَّامِ لَمْ يَظْهَرْ عَلَيْهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَئِذٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا تَسْمَعُونَ مَا يَقُولُ هَذَا ؟ " فَقَالَ أَبُو ثَعْلَبَةَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَيَظْهَرَنَّ عَلَيْهَا . قَالَ : فَكَتَبَ لِي بِهَا - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے فلاں فلاں جگہ کے لئے تحریر کروا دیں یہ شام میں موجود ایک جگہ تھی جس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی تک غلبہ حاصل نہیں کیا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم لوگ سن نہیں رہے ہو یہ کیا کہہ رہا ہے ؟ سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ( مسلمان ) اس پر ضرور غالب آئیں گے راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں میرے لئے تحریر لکھوا دی ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔