مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يُقْطَعُ مِنَ الْأَرَاضِي وَالْمِيَاهِ . باب: زمین یا پانیوں کو جاگیر کے طور پر دینا
حدیث نمبر: 9785
وَعَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ قَالَ : اسْتَقْطَعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْضًا بِالشَّامِ قَبْلَ أَنْ يَفْتَحَ ، فَأَعْطَانِيهَا ، فَفَتَحَهَا عُمَرُ فِي زَمَانِهِ ، فَأَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْطَانِي أَرْضًا مِنْ كَذَا إِلَى كَذَا ، فَجَعَلَ عُمَرُ ثُلُثَهَا لِابْنِ السَّبِيلِ ، وَثُلُثًا لِعُمَّارِيهَا ، وَثُلُثًا لَنَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شام کے فتح ہونے سے پہلے شام میں موجود ایک زمین جاگیر کے طور پر مانگی تو وہ آپ نے مجھے عطا کر دی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں وہ زمین فتح ہوئی میں ان کے پاس آیا میں نے کہا: اللہ کے رسول نے مجھے فلاں جگہ سے لے کر فلاں تک کی جگہ عطا کی تھی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا ایک تہائی حصہ مسافر کے لئے ایک تہائی حصہ وہاں کام کاج کرنے والوں کے لئے اور ایک تہائی حصہ ہمارے لئے مقرر کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔