مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ ذَهَابِ الْعِلْمِ . باب: علم کا رخصت ہو جانا
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُوشِكُ بِالْعِلْمِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ " فَرَدَّدَهَا ثَلَاثًا ، فَقَالَ زِيَادُ بْنُ لَبِيدٍ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، بِأَبِي وَأُمِّي ، وَكَيْفَ يُرْفَعُ الْعِلْمُ مِنَّا ، وَهَذَا كِتَابُ اللَّهِ قَدْ قَرَأْنَاهُ وَيُقْرِئُهُ أَبْنَاؤُنَا أَبْنَاءَهُمْ ؟ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا زِيَادُ بْنَ لَبِيدٍ ، إِنْ كُنْتُ لَأَعُدُّكَ مِنْ فُقَهَاءِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، أَوَلَيْسَ هَؤُلَاءِ الْيَهُودُ عِنْدَهُمُ التَّوْرَاةُ وَالْإِنْجِيلُ ، فَمَا أَغْنَى عَنْهُمْ ؟ إِنَّ اللَّهَ لَيْسَ يَذْهَبُ بِالْعِلْمِ رَفْعًا يَرْفَعُهُ ، وَلَكِنْ يَذْهَبُ بِحَمَلَتِهِ - أَحْسَبُهُ - وَلَا يَذْهَبُ عَالِمٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا كَانَ ثُغْرَةً فِي الْإِسْلَامِ لَا تُسَدُّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ سِنَانٍ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَجَمَاعَةٌ ، إِلَّا أَنَّ أَبَا مُسْهِرٍ قَالَ : حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو مَهْدِيٍّ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ مُؤَذِّنُ أَهْلِ حِمْصَ ، وَكَانَ ثِقَةً مَرْضِيًّا . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” عنقریب ایسا ہو گا کہ علم کو اٹھا لیا جائے گا ، راوی بیان کرتے ہیں : یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ دہرائی ، تو سیدنا زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، ہم سے علم کو کیسے اٹھایا جائے گا ؟ جبکہ یہ اللہ کی کتاب موجود ہے جسے ہم نے پڑھا ہے اور ہمارے بال بچے اپنے بال بچوں کو یہ پڑھائیں گے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : اے زیاد بن لبید ! تمہاری ماں تمہیں روئے ، میں تمہیں مدینہ کے سمجھدار افراد میں سے ایک شمار کرتا تھا ، کیا ان یہودیوں کے پاس تورات اور انجیل نہیں تھی ؟ تو وہ ان کے کس کام آئی ، بے شک اللہ تعالیٰ علم کو یوں رخصت نہیں کرے گا کہ وہ اس کو اُٹھا لے گا ، بلکہ وہ اس کے حاملین ( یعنی علماء ) کو رخصت کر دے گا ، راوی بیان کرتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ” جب بھی اس امت کا کوئی عالم رخصت ہو گا ، تو اسلام میں سوراخ ہو جائے گا ، جو قیامت کے دن تک بند نہیں ہو گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی سعد بن سنان ہے ، جس کو امام بخاری رحمہ اللہ ، یحیی بن معین اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ، البتہ ابومسہر کہتے ہیں : صدقہ بن خالد نے ہمیں حدیث بیان کی ہے ، وہ کہتے ہیں : اہل حمص کے مؤذن ابومہدی سعید بن سنان نے مجھے حدیث بیان کی ، جو ایک ثقہ اور پسندیدہ شخص ہیں ۔