حدیث نمبر: 9774
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ دُرْجًا أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ أَصْحَابُهُ ، فَلَمْ يَعْرِفُوا قِيمَتَهُ ، فَقَالَ : أَتَأْذَنُونَ أَنْ أَبْعَثَ بِهِ إِلَى عَائِشَةَ ، لِحُبِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِيَّاهَا ؟ قَالُوا : نَعَمْ . ¤ فَأَتَى بِهِ عَائِشَةَ ، فَفَتَحَتْهُ ، فَقِيلَ : هَذَا أَرْسَلَ بِهِ إِلَيْكِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ . فَقَالَتْ : مَاذَا فُتِحَ عَلَى ابْنِ الْخَطَّابِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ اللَّهُمَّ لَا تُبْقِنِي لِعَطِيَّتِهِ قَابِلُ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک ” درج “ ( عورتوں کا سامان رکھنے کا چھوٹا بکسہ ) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ان کے ساتھیوں نے وہ دیکھا انہیں اس کی قیمت کا اندازہ نہیں تھا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ اس بات کی اجازت دو گے کہ میں اسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھجوا دوں ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب شخصیت ہیں ؟ لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے ! وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس لایا گیا اور کہا: گیا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ آپ کو بھجوایا ہے ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ، خطاب کے صاحبزادے کو کیا کچھ فتح کے طور پر ملا ہے ، اے اللہ ! تو آئندہ مجھے ان کے عطیات کے لئے باقی نہ رہنے دینا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9774
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح