حدیث نمبر: 9773
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْطَانَا نَصِيبًا مِنْ خَيْبَرَ ، وَأَعْطَانَاهُ أَبُو بَكْرٍ ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ وَكَثُرَ عَلَيْهِ النَّاسُ ، أَرْسَلَ إِلَيْنَا ثُمَّ قَالَ : إِنَّ النَّاسَ قَدْ كَثُرُوا عَلَيَّ ، فَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ أُعْطِيَكُمْ مَكَانَ نَصِيبِكُمْ مِنْ خَيْبَرَ مَالًا ؟ فَنَظَرَ بَعْضُنَا إِلَى بَعْضٍ ، فَقُلْنَا : نَعَمْ . ¤ فَطُعِنَ عُمَرُ ، وَلَمْ يُعْطِنَا شَيْئًا ، فَأَخَذَهَا عُثْمَانُ فَأَبَى أَنْ يُعْطِيَنَا ، وَقَالَ : قَدْ كَانَ عُمَرُ أَخَذَهَا مِنْكُمْ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خیبر میں سے حصہ دیا تھا ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی وہ ہمیں دیا تھا ۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا لوگ ان کے پاس زیادہ آنے لگے تو انہوں نے ہمیں پیغام بھیجا اور فرمایا : لوگ میرے پاس زیادہ آنے لگے ہیں اگر تم چاہو ، تو میں خیبر میں سے تمہارے حصے کی جگہ تمہیں زمین دے دیتا ہوں ہم ایک دوسرے کی طرف نظر کی اور کہا: ٹھیک ہے پھر جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کر دیا گیا تو انہوں نے ہمیں کچھ نہیں دیا تھا ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے وہ زمین لے لی اور ہمیں کچھ دینے سے انکار کر دیا انہوں نے یہ کہا: کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تم سے یہ لے لی تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن جبیر ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9773
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1738 و 1737)»