مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ تَدْوِينِ الْعَطَاءِ . باب: سرکاری ادائیگیوں کی تدوین
عَنْ نَاشِرِ بْنِ سُمَيٍّ الْيَزَنِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَوْمَ الْجَابِيَةِ ، وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَنِي خَازِنًا لِهَذَا الْمَالِ وَقَاسِمَهُ ، ثُمَّ قَالَ : بَلِ اللَّهُ يَقْسِمُهُ ، وَأَنَا بَادِئٌ بِأَهْلِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ أَشْرَفِهِمْ . ¤ فَفَرَضَ لِأَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَشَرَةَ آلَافٍ ، إِلَّا جُوَيْرِيَّةَ وَصَفِيَّةَ وَمَيْمُونَةَ . قَالَتْ عَائِشَةُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَعْدِلُ بَيْنَنَا ، فَعَدَلَ بَيْنَهُنَّ عُمَرُ . ¤ ثُمَّ قَالَ : إِنِّي بَادِئٌ بِأَصْحَابِي الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ ; فَإِنَّا أُخْرِجْنَا مِنْ دِيَارِنَا ظُلْمًا وَعُدْوَانًا ، ثُمَّ أَشْرَفِهِمْ ، فَفَرَضَ لِأَهْلِ بَدْرٍ مِنْهُمْ خَمْسَةَ آلَافٍ ، وَلِمَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَرْبَعَةَ آلَافٍ ، وَفَرَضَ لِمَنْ شَهِدَ أُحُدًا ثَلَاثَةَ آلَافٍ . ¤ قَالَ : وَمَنْ أَسْرَعَ بِالْهِجْرَةِ ، أَسْرَعَ بِهِ الْعَطَاءُ ، وَمَنْ أَبْطَأَ بِالْهِجْرَةِ ، أَبْطَأَ بِهِ الْعَطَاءُ ، فَلَا يَلُومَنَّ امْرُؤٌ إِلَّا مُنَاخَ رَاحِلَتِهِ . ¤ وَإِنِّي أَعْتَذِرُ إِلَيْكُمْ مِنْ عَزْلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، إِنِّي أَمَرْتُهُ أَنْ يَحْبِسَ هَذَا الْمَالَ عَلَى ضَعَفَةِ الْمُهَاجِرِينَ ، فَأَعْطَاهُ ذَا الْبَأْسِ ، وَذَا الشَّرَفِ ، وَذَا اللِّسَانِ ، فَنَزَعْتُهُ ، وَوَلَّيْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ . ¤ فَقَالَ أَبُو عَمْرِو بْنُ حَفْصٍ : وَاللَّهِ ، مَا أَعْذَرْتَ يَا عُمَرُ بْنَ الْخَطَّابِ ، لَقَدْ نَزَعْتَ عَامِلًا اسْتَعْمَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَغَمَدْتَ سَيْفًا سَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَضَعْتَ لِوَاءً نَصَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ وَلَقَدْ قَطَعْتَ الرَّحِمَ ] وَحَسَدْتَ ابْنَ الْعَمِّ . ¤ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : إِنَّكَ قَرِيبُ الْقَرَابَةِ ، حَدِيثُ السِّنِّ ، مُعَصَّبٌ فِي ابْنِ عَمِّكَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ناشر بن سمی یزنی بیان کرتے ہیں : جابیہ کے دن میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو سنا وہ لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے ( انہوں نے فرمایا : ) بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے اس مال کا خزانچی اور تقسیم کرنے والا بنایا ہے پھر انہوں نے فرمایا : بلکہ اللہ تعالیٰ اسے تقسیم کرنے والا ہے ، تو میں آغاز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ سے کروں گا پھر لوگوں میں سب سے زیادہ معزز افراد سے کروں گا ، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے لئے دس ہزار حصہ مقرر کیا البتہ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ مختلف تھا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان عدل کیا کرتے تھے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی ان ازواج کے درمیان عدل کیا ہے ۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں سب سے پہلے آغاز مہاجرین اولین سے کروں گا ، کیونکہ ہمیں ظلم اور زیادتی کے طور پر ہمارے علاقوں سے نکالا گیا اور پھر جو ان میں زیادہ معزز ہیں وہ ہوں گے تو انہوں نے ان مہاجرین میں سے اہل بدر کے لئے پانچ ہزار کا حصہ اور انصار میں سے غزوہ بدر میں حصہ لینے والے کے لئے چار ہزار کا حصہ مقرر کیا جو شخص غزوہ اُحد میں شریک ہوا تھا اس کے لئے تین ہزار کا حصہ مقرر کیا ۔ انہوں نے فرمایا : جس شخص نے جلدی ہجرت کی تھی اسے زیادہ حصہ ملے گا ، اور جس شخص نے تاخیر سے ہجرت کی تھی اسے کم حصہ ملے گا ، تو آدمی اپنی سواری کے باندھنے کو ملامت کرے اور میں تمہارے سامنے خالد بن ولید کو معزول کرنے کے حوالے سے عذر بیان کرنے لگا ہوں میں نے اسے یہ حکم دیا تھا کہ وہ یہ مال غریب مہاجرین کے لئے روک کے رکھے لیکن اس نے صاحب حیثیت شرف والے زبان والے افراد کو دیا ، تو میں نے اسے الگ کر دیا اور ابوعبیدہ کو والی مقرر کر دیا ، تو ابوعمرو بن حفص نے کہا: اللہ کی قسم ! اے عمر بن خطاب یہ کوئی عذر نہیں ہے آپ نے ایک ایسے عامل کو معزول کر دیا ہے جسے اللہ کے رسول نے عامل مقرر کیا تھا ، اور آپ نے ایک ایسی تلوار کو میان میں ڈال دیا جسے اللہ کے رسول نے میان سے نکالا تھا ، اور آپ نے ایک ایسے جھنڈے کو نیچے کر دیا جسے اللہ کے رسول نے نصب کیا تھا ۔ آپ نے رشتہ داری کے حقوق کو پامال کیا ہے اور اپنے چچازاد سے حسد کیا ہے ۔ تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم زیادہ قریبی عزیز ہو تمہاری عمر بھی کم ہے اور تم اپنے چچازاد کے بارے میں عصبیت کا شکار ہو ۔
یہ روایت أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔