حدیث نمبر: 9770
وَعَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ : أُرِيدُ قَسْمَ سَوَادِ الْكُوفَةِ بَيْنَ مَنْ ظَهَرَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ سَعْدٌ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنَّا قَدْ ظَهَرْنَا عَلَى أَلْيَنِ قَوْمٍ خَلَقَهُمُ اللَّهُ قُلُوبًا ، وَأَسْخَاهُمْ أَنْفُسًا ، وَأَعْظَمِهِمْ بَرَكَةً ، وَأَنْدَاهُمْ يَدًا ، إِنَّمَا أَيْدِيهِمْ طَعَامٌ ، وَأَلْسِنَتُهُمْ سَلَامٌ ، فَإِنْ رَأَيْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَنْ لَا تُفَرِّقَهُمْ ، وَلَا تَقْسِمَهُمْ ، وَلَا يَصُدَّنَا عَنْ وَجْهِنَا الَّذِي فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْنَا فِيهِ مَا فَتَحَ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " عِزُّ الْعَرَبِ فِي أَسِنَّةِ رِمَاحِهَا ، وَسَنَابِكِ خَيْلِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطَّلْحِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . وَيَأْتِي إِقْطَاعُ الْأَرَاضِي بَعْدَ قَلِيلٍ . ¤
محمد محی الدین

قبیصہ بن جابر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو خط لکھا : میں یہ چاہتا ہوں کہ تم کوفہ کی سرزمین وہاں غالب آنے والے مسلمانوں میں تقسیم کر دو تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے انہیں ، جوابی خط میں لکھا : اے امیر المؤمنین ! ہم ایسے لوگوں پر غالب آئے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ لوگوں میں سب سے زیادہ نرم دل والے سب سے زیادہ سخی نفس والے سب سے زیادہ برکت والے سب سے زیادہ کھلے ہاتھ کے ہیں ، ان کے ہاتھ کھانا کھلانے والے ہیں ان کی زبانیں سلام کرنے والی ہیں ، امیر المؤمنین اگر آپ سمجھیں ، تو آپ انہیں جدا نہ کریں اور انہیں تقسیم نہ کریں ، اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس میں جو فتوحات عطا کر دی ہیں ، آپ ہماری توجہ اس سے نہ ہٹائیں ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عربوں کا غلبہ ان کے نیزوں کی دھار اور اُن کے گھوڑوں کے سموں میں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن موسیٰ طلحی ہے اور وہ ضعیف ہے زمین کو جاگیر کے طور پر دینے کے بارے میں روایات کچھ آگے چل کر آئیں گی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9770
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً