حدیث نمبر: 9701
وَعَنْ خُرَيْمِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ : لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَعْدَى لِلْعَرَبِ مِنْ هُرْمُزَ ، فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنْ مُسَيْلِمَةَ وَأَصْحَابِهِ وَأَقْبَلْنَا إِلَى نَاحِيَةِ الْبَصْرَةِ فَلَقِينَا هُرْمُزَ بِكَاظِمَةَ فِي جَمْعٍ عَظِيمٍ ، فَبَرَزَ لَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَدَعَا إِلَى الْبِرَازِ فَبَرَزَ لَهُ هُرْمُزُ فَقَتَلَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَكَتَبَ بِذَلِكَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَنَفَلَهُ سَلَبَهُ فَبَلَغَتْ قَلَنْسُوَةُ هُرْمُزَ مِائَةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ ، وَكَانَتِ الْفُرْسُ إِذَا شَرُفَ رَجُلٌ جَعَلُوا قَلَنْسُوَتَهُ بِمِائَةِ أَلْفِ دِرْهَمٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

خریم بن اوس بیان کرتے ہیں : میرے نزدیک عربوں کا ہرمز سے بڑا دشمن اور کوئی نہیں تھا ۔ جب ہم مسیلمہ اور اس کے ساتھیوں سے فارغ ہوئے تو ہم نے بصرہ کی طرف رخ کیا کاظمہ کے مقام پر ہمارا سامنا ہرمز سے ہوا جس کے ساتھ بڑا لشکر تھا ۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آگے نکلے اور مقابلے کے لئے للکارا تو ہرمز ان کے سامنے مقابلہ کرنے کے لئے آیا سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا انہوں نے اس بارے میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خط لکھا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہرمز کا ساز و سامان سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو انعام کے طور پر دے دیا ہرمز کی ٹوپی کی قیمت ایک لاکھ درہم تھی ایرانیوں کا یہ معمول تھا کہ جب کوئی شخص ان کا حکمران بنتا تھا ، تو اس کی ٹوپی ایک لاکھ درہم کی بناتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9701
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4168)»