حدیث نمبر: 9702
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : رَأَيْتُ عَمْرَ بْنَ مَعْدِ يَكْرِبَ يَوْمَ الْقَادِسِيَّةِ وَهُوَ يُحَرِّضُ النَّاسَ عَلَى الْقِتَالِ وَهُوَ يَقُولُ : أَيُّهَا النَّاسُ كُونُوا أُسْدًا أَشِدَّاءَ عَنَّا نُشَّابَةً ، إِنَّمَا الْفَارِسِيُّ تَيْسٌ إِذَا لَقِيَ نَيْزَكَهُ . ¤ قَالَ : فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذَا أُسْوَارٌ مِنْ أَسَاوِرَةِ الْفُرْسِ قَدْ بَرَى لَهُ نُشَّابَةً فَقِيلَ لَهُ : يَا أَبَا ثَوْرٍ إِنَّ هَذَا قَدْ بَرَى لَكَ بِنُشَّابِهِ قَالَ : فَرَمَاهُ فَأَخْطَأَهُ وَأَصَابَ سِنَّةَ قَوْسِ عَمْرٍو فَكَسَرَهَا فَحَمَلَ عَلَيْهِ عَمْرٌو فَطَعَنَهُ فَدَقَّ صُلْبَهُ فَنَزَلَ إِلَيْهِ وَأَخَذَ سُوَارَيْنِ كَانَا عَلَيْهِ وَيَلْمَقًا مِنْ دِيبَاجٍ قَالَ : فَسَلِمَ ذَلِكَ لَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : جنگ قادسیہ کے موقع پر میں نے سیدنا عمرو بن معدیکرب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ لوگوں کو جنگ کے لئے ترغیب دے رہے تھے اور یہ فرما رہے تھے : اے لوگو ! ( دشمن سے ) بھڑ جانے والے زبردست شیروں کی طرح ہو جاؤ ، ایرانی شخص نر ہوتا ہے ، جب وہ اپنے چھوٹے نیزے سے ملتا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : ابھی وہ اسی حالت میں تھے کہ ایرانیوں کے قائدین میں سے ایک قائد نے ان کے لئے اپنا ترکش نکالا ، ان سے کہا: گیا : اے ابوثور ! اس شخص نے آپ کے لئے ترکش نکال لیا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : اس شخص نے انہیں تیر مارا ، وہ نشانے پر نہیں لگا ، بلکہ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کی کمان پر لگا ، اور اسے توڑ دیا پھر سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے اس پر حملہ کر کے اسے زخمی کیا اور اس کی پشت کو توڑ دیا ، پھر وہ اتر کر اس کے پاس گئے ، اور اس نے جو کنگن پہنے ہوئے تھے وہ لے لیے ، اور جو ریشمی یلمق ( یعنی قباء ) پہنا ہوا تھا ، وہ بھی لے لیا ، راوی کہتے ہیں : تو وہ چیزیں انہیں مل گئی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9702
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (45/17)»