حدیث نمبر: 9697
وَعَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ قَالَ : نَزَلْنَا دَابِقَ وَعَلَيْنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فَبَلَغَ حَبِيبَ بْنَ مَسْلَمَةَ أَنَّ صَاحِبَ قُبْرُسَ خَرَجَ يُرِيدُ بِطْرِيقَ أَذْرَبِيجَانَ وَمَعَهُ زُمُرُّدٌ وَيَاقُوتٌ وَلُؤْلُؤٌ وَذَهَبٌ وَدِيبَاجٌ فَخَرَجَ فِي خَيْلٍ فَقَتَلَهُ وَجَاءَ بِمَا مَعَهُ فَأَرَادَ أَبُو عُبَيْدَةَ أَنْ يُخَمِّسَهُ فَقَالَ حَبِيبٌ : لَا تَحْرِمْنِي رِزْقًا رَزَقَنِيهِ اللَّهُ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَعَلَ السَّلَبَ لِلْقَاتِلِ . فَقَالَ مُعَاذٌ : يَا حَبِيبُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّمَا لِلْمَرْءِ مَا طَابَتْ بِهِ نَفْسُ إِمَامِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

جنادہ بن ابوامیہ بیان کرتے ہیں : ہم نے دابق کے مقام پر پڑاؤ کیا سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ہمارے امیر تھے حبیب بن مسلمہ کو اس بات کی اطلاع ملی کہ قبرس کا حکمران نکلا ہے اور وہ آذربائی جان کے راستے کی طرف جا رہا ہے اس کے ساتھ زمرد یاقوت موتی سونا اور ریشم ہے ، تو حبیب بن مسلمہ کچھ گھڑ سواروں کے ساتھ نکلے انہوں نے اسے قتل کر دیا اور جو کچھ اس کے ساتھ ساز و سامان تھا وہ لے آئے ۔ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے یہ ارادہ کیا کہ انہیں خمس دیں ، تو سیدنا حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کہ آپ مجھے اس رزق سے محروم نہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مقتول کا ) ساز و سامان قاتل کو دینے کا حکم دیا ہے ، تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے حبیب میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” آدمی کے لئے وہی چیز ہو گی جو اس کا حکمران خوش دلی سے اسے دے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9697
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (3533)»