حدیث نمبر: 9696
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّ جَرِيرًا بَارَزَ مِهْرَانَ فَقَتَلَهُ، فَقُوِّمَتْ مِنْطَقَتُهُ ثَلَاثِينَ أَلْفًا، وَكَانَ مَنْ بَارَزَ رَجُلًا فَقَتَلَهُ فَلَهُ سَلَبُهُ فَكَتَبُوا إِلَى عُمَرَ فَقَالَ عُمَرُ : لَيْسَ هَذَا مِنَ السَّلَبِ الَّذِي يُعْطَى لَيْسَ مِنَ السِّلَاحِ وَلَا مِنَ الْكُرَاعِ ، وَلَمْ يَنْفُلْهُ وَجَعَلَهُ مَغْنَمًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَلَمْ يَقُلْ عَنْ جَرِيرٍ فَهُوَ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین

امام شعبی بیان کرتے ہیں : سیدنا جبریر رضی اللہ عنہ نے مہران کو مقابلے کے لئے للکارا اور اسے قتل کر دیا ، تو اس کے پٹکے کی قیمت تیس ہزار تھی پہلے یہ ہوتا تھا کہ جب کوئی شخص کسی شخص کو مقابلے کے لئے للکارتا تھا ، اور اسے قتل کر دیتا تھا ، تو مقتول کا سامان اسے مل جاتا تھا لوگوں نے اس بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ اس سامان میں سے نہیں ہے ، جو ( قتل کرنے والے مسلمان ) کو دے دیا جاتا ہے ، کیونکہ یہ چیز نہ ہتھیار میں شامل ہے نہ ” کراع “ ( یہ لفظ ہتھیاروں اور گھوڑوں دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے ) میں شامل ہے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انعام کے طور پر وہ انہیں نہیں دیا بلکہ اسے مال غنیمت میں شامل کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے انہوں نے یہ بھی نہیں کہا: کہ یہ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، تو
یہ روایت منقطع ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9696
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2212)»