مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي السَّلَبِ . باب: ( مقتول کے ) سازوسامان کا بیان
وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ : بَارَزَ الْبَرَاءُ بْنُ مَالِكَ أَخُو أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَرْزُبَانَ الزَّارَةِ فَقَتَلَهُ فَأَخَذَ سَلَبَهُ فَبَلَغَ سَلَبُهُ ثَلَاثِينَ أَلْفًا [ فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فََقَالَ لِأَبِي طَلْحَةَ : إِنَّا كُنَّا لَا نُخَمِّسُ السَّلْبَ ، وَإِنَّ سَلْبَ الْبَرَاءِ قَدْ بَلَغَ مَالًا كَثِيرًا ، فَمَا أَرَانَا إِلَّا خَامِسِيهِ ] .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
ابن سیرین بیان کرتے ہیں : سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ جو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں انہوں نے مرزبان زارہ کو مقابلے کے لئے للکارا اور اسے قتل کر دیا اور اس کا سامان حاصل کر لیا ، تو اس کے سامان کی قیمت تیس ہزار تک پہنچتی تھی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی تو انہوں نے سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ہم سلب ( یعنی مقتول کے سامان ) میں سے خمس نہیں نکالا کرتے تھے براء کا حاصل کیا ہوا سامان بہت زیادہ مال تک پہنچتا ہے ، تو میں یہی سمجھتا ہوں کہ ہم اس میں سے خمس نکالیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔