وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ - رَفَعَهُ مُعَاوِيَةُ مَرَّةً ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ أُخْرَى - : " أَنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - لَا يُعْجِزُ هَذِهِ الْأُمَّةَ مِنْ نِصْفِ يَوْمٍ ، وَإِذَا رَأَيْتَ الشَّامَ مَائِدَةَ رَجُلٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ ; فَعِنْدَ ذَلِكَ تُفْتَحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَقَدْ عَزَاهُ فِي الْأَطْرَافِ إِلَى أَبِي دَاوُدَ فِي الْمَلَاحِمِ ، وَلَمْ أَجِدْهُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ ، وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت منقول ہے : معاویہ نامی راوی نے ایک مرتبہ اسے مرفوع روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اور ایک مرتبہ اسے مرفوع روایت کے طور پر نقل نہیں کیا ہے ( بلکہ موقوف روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، وہ فرماتے ہیں : ) ” بے شک اللہ تعالیٰ اس امت کو نصف دن ( یعنی پانچ سو سال ) سے عاجز نہیں کرے گا اور جب تم شام کو دیکھو کہ وہ آدمی اور اُس کے اہل بیت کا دستر خوان ہو ، تو اس وقت قسطنطنیہ فتح ہو گا “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ” اطراف “ کے مصنف نے اس کی نسبت امام ابوداؤد کی طرف کی ہے اور یہ کہا: ہے : یہ روایت جنگوں سے متعلق باب میں ہے ، لیکن مجھے اس کتاب میں یہ روایت نہیں ملی ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے ، اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔