حدیث نمبر: 967
وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ رَاشِدٍ قَالَ : سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِي كَرِبَ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَكْثَرُ النَّاسِ يَقُولُونَ : الْقَضَاءُ فِي مِائَةٍ - يَعْنُونَ عَنْ مِائَةِ سَنَةٍ تَكُونُ الْقِيَامَةُ - فَقَالَ الْمِقْدَامُ : قَدْ أَكْثَرْتُمْ ، لَنْ يُعْجِزَ اللَّهُ أَنْ يُؤَخِّرَ هَذِهِ الْأُمَّةَ نِصْفَ يَوْمٍ ؛ يَعْنِي خَمْسَمِائَةِ سَنَةٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین

عبدالملک بن راشد بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ کو سنا : اکثر لوگوں کا یہ کہنا تھا : سو سال میں فیصلہ آ جائے گا ، یعنی 100 ہجری میں قیامت آ جائے گی ، تو سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے زیادہ ہی کر دیا ہے ، ایسا نہیں ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اس اُمت کو نصف دن کا وقت بھی نہ دے ، اُن کی مراد 500 سال تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 967
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف