حدیث نمبر: 9650
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَجَهَّزُوا إِلَى هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا فَإِنَّ اللَّهَ فَاتِحُهَا عَلَيْكُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ - يَعْنِي خَيْبَرَ - وَلَا يَخْرُجَنَّ مَعِي مُصْعِبٌ وَلَا مُضْعِفٌ" . ¤ فَانْطَلَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِلَى أُمِّهِ فَقَالَ : جَهِّزِينِي فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَمَرَ بِالْجِهَادِ لِلْغَزْوِ فَقَالَتْ : تَنْطَلِقُ وَقَدْ عَلِمْتَ مَا أَدْخُلُ [ الْمِرْفَقُ ] إِلَّا وَأَنْتَ مَعِي ؟ قَالَ : مَا كُنْتُ لِأَتَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْرَجَتْ ثَدْيَهَا فَنَاشَدَتْهُ بِمَا رَضَعَ مِنْ لَبَنِهَا فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِرًّا فَأَخْبَرَتْهُ فَقَالَ : " انْطَلِقِي فَقَدْ كُفِيتِ" . فَجَاءَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَى إِعْرَاضَكَ عَنِّي لَا أَرَى ذَلِكَ إِلَّا لِشَيْءٍ بَلَغَكَ . قَالَ : " أَنْتَ الَّذِي تُنَاشِدُكَ أُمُّكَ ، وَأَخْرَجَتْ ثَدْيَهَا تُنَاشِدُكَ بِمَا رَضَعْتَ مِنْ لَبَنِهَا ، أَيَحْسَبُ أَحَدُكُمْ إِذَا كَانَ عِنْدَ أَبَوَيْهِ أَوْ أَحَدِهِمَا أَنَّهُ لَيْسَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَلْ هُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِذَا بَرَّهُمَا وَأَدَّى حَقَّهُمَا " . فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : لَقَدْ مَكَثْتُ بَعْدَ ذَلِكَ سَنَتَيْنِ مَا أَغْزُو حَتَّى مَاتَتْ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اس بستی کی طرف جانے کی تیاری کرو ، جس کے رہنے والے ظالم ہیں ، کیونکہ اگر اللہ نے چاہا ، تو اللہ تعالیٰ اسے تمہارے لئے فتح کروا دے گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد خیبر تھی ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ) میرے ساتھ کوئی ایسا شخص نہ روانہ ہو جس کا سواری کا جانور دشوار ہو ( یعنی ق ابومیں نہ آتا ہو ، ) یا وہ ( جانور ) کمزور ہو ، راوی کہتے ہیں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی والدہ کے پاس گئے ، اور بولے : آپ مجھے سامان فراہم کریں ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جنگ میں حصہ لینے کا حکم دیا ہے اس خاتون نے کہا: تم چلے جاؤ گے جبکہ تم یہ بات جانتے ہو کہ میں جب بھی سہولت کی جگہ میں داخل ہوتی ہوں ، تو تم میرے ساتھ ہوتے ہو ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اللہ کے رسول سے پیچھے نہیں رہوں گا ، تو اس خاتون نے اپنی چھاتی کی طرف اشارہ کر کے انہیں اس چیز کا واسطہ دیا کہ جو اس خاتون نے انہیں دودھ پلایا تھا پھر وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم واپس چلی جاؤ تمہارا معاملہ حل ہو جائے گا جب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ پھیر لیا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ نے مجھ سے منہ پھیر لیا ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ تک کوئی بات پہنچی ہے جس کی وجہ سے ایسا ہوا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ہی وہ شخص ہو کہ جسے تمہاری والدہ واسطے دے رہی تھی اور اس نے تمہیں ، جو دودھ پلایا ہے اس کا حوالہ دے رہی تھی ؟ کیا تم میں سے کوئی ایک شخص یہ گمان کرتا ہے کہ جب اس کے ماں باپ موجود ہوں یا ان دونوں میں سے کوئی ایک موجود ہو ، تو ایسی صورت میں وہ شخص اللہ کی راہ میں نہیں ہوتا ؟ ایسا شخص اللہ کی راہ میں ہوتا ہے جب وہ ان دونوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور ان کا حق ادا کرے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اس کے بعد میں دو سال تک اس حال میں رہا کہ میں نے کسی جنگ میں حصہ نہیں لیا یہاں تک کہ میری والدہ کا انتقال ہو گیا ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے یہ پوری حدیث غزوہ خیبر سے متعلق باب میں آگے آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9650
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7897)»