حدیث نمبر: 9646
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى السِّقَايَةِ فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ بِابْنٍ لَهَا فَقَالَتْ : إِنَّ ابْنِي هَذَا يُرِيدُ الْغَزْوَ وَأَنَا أَمْنَعُهُ فَقَالَ : " لَا تَبْرَحْ مِنْ أُمِّكَ حَتَّى تَأْذَنَ لَكَ أَوْ يَتَوَفَّاهَا الْمَوْتُ لِأَنَّهُ أَعْظَمُ لِأَجْرِكَ" . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سقایہ کے پاس موجود تھے ایک خاتون اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی : میرا یہ بیٹا جنگ میں حصہ لینا چاہتا ہے اور میں اسے روک رہی ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس لڑکے سے ) فرمایا تم اپنی ماں کے ساتھ رہو جب تک وہ تمہیں اجازت نہیں دیتی یا جب تک اسے موت نہیں آ جاتی ، کیونکہ یہ تمہارے لئے زیادہ اجر کا باعث ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن کریب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن کریب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9647
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ وَأُمُّهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُرِيدُ الْجِهَادَ وَأُمُّهُ تَمْنَعُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عِنْدَ أُمِّكَ قِرَّ فَإِنَّ لَكَ مِنَ الْأَجْرِ عِنْدَهَا مِثْلَ مَا لَكَ فِي الْجِهَادِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . قُلْتُ وَفِي الْبِرِّ وَالصِّلَةِ أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا النَّحْوِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص اور اس کی والدہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ شخص جہاد میں حصہ لینا چاہتا تھا ، اور اس کی والدہ اسے روک رہی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنی ماں کے پاس ٹھہرے رہو کیونکہ تمہیں اس کے پاس ٹھہرنے پر وہی اجر ملے گا جو تمہیں جہاد میں حصہ لینے پر ملنا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن کریب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : کتاب البروالصلہ میں اس نوعیت کی کچھ احادیث آئیں گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن کریب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : کتاب البروالصلہ میں اس نوعیت کی کچھ احادیث آئیں گی ۔
حدیث نمبر: 9648
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنْ كَانَ الْغَزْوُ عِنْدَ بَابِ الْبَيْتِ فَلَا تَذْهَبْ إِلَّا بِإِذْنِ أَبَوَيْكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ أُسَامَةَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ وَهُوَ ثِقَةٌ ثَبْتٌ كَمَا هُوَ فِي تَارِيخِ مِصْرَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اگر جنگ گھر کے دروازے کے پاس ہو رہی ہو ، تو تم اپنے ماں باپ کی اجازت کے بغیر نہ جانا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف امام طبرانی کے استاد اسامہ بن علی بن سعید بن بشیر کا معاملہ مختلف ہے وہ ثقہ اور ثبت ہے جیسے تاریخ مصر میں یہ بات مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف امام طبرانی کے استاد اسامہ بن علی بن سعید بن بشیر کا معاملہ مختلف ہے وہ ثقہ اور ثبت ہے جیسے تاریخ مصر میں یہ بات مذکور ہے ۔
حدیث نمبر: 9649
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُبَايِعَكَ عَلَى الْجِهَادِ . قَالَ : " أَحَيٌّ وَالِدَاكَ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْجِيلِيِّ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْحَارِثِيِّ وَكِلَاهُمَا لَمْ أَعْرِفْهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں جہاد پر آپ کی بیعت کرنا چاہتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر تم ان کی بھر پور خدمت کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اپنے استاد محمد بن أحمد جیلی کے حوالے سے أحمد بن ابراہیم حارثی سے نقل کی ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اپنے استاد محمد بن أحمد جیلی کے حوالے سے أحمد بن ابراہیم حارثی سے نقل کی ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9650
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَجَهَّزُوا إِلَى هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا فَإِنَّ اللَّهَ فَاتِحُهَا عَلَيْكُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ - يَعْنِي خَيْبَرَ - وَلَا يَخْرُجَنَّ مَعِي مُصْعِبٌ وَلَا مُضْعِفٌ" . ¤ فَانْطَلَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِلَى أُمِّهِ فَقَالَ : جَهِّزِينِي فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَمَرَ بِالْجِهَادِ لِلْغَزْوِ فَقَالَتْ : تَنْطَلِقُ وَقَدْ عَلِمْتَ مَا أَدْخُلُ [ الْمِرْفَقُ ] إِلَّا وَأَنْتَ مَعِي ؟ قَالَ : مَا كُنْتُ لِأَتَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْرَجَتْ ثَدْيَهَا فَنَاشَدَتْهُ بِمَا رَضَعَ مِنْ لَبَنِهَا فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِرًّا فَأَخْبَرَتْهُ فَقَالَ : " انْطَلِقِي فَقَدْ كُفِيتِ" . فَجَاءَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَى إِعْرَاضَكَ عَنِّي لَا أَرَى ذَلِكَ إِلَّا لِشَيْءٍ بَلَغَكَ . قَالَ : " أَنْتَ الَّذِي تُنَاشِدُكَ أُمُّكَ ، وَأَخْرَجَتْ ثَدْيَهَا تُنَاشِدُكَ بِمَا رَضَعْتَ مِنْ لَبَنِهَا ، أَيَحْسَبُ أَحَدُكُمْ إِذَا كَانَ عِنْدَ أَبَوَيْهِ أَوْ أَحَدِهِمَا أَنَّهُ لَيْسَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَلْ هُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِذَا بَرَّهُمَا وَأَدَّى حَقَّهُمَا " . فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : لَقَدْ مَكَثْتُ بَعْدَ ذَلِكَ سَنَتَيْنِ مَا أَغْزُو حَتَّى مَاتَتْ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اس بستی کی طرف جانے کی تیاری کرو ، جس کے رہنے والے ظالم ہیں ، کیونکہ اگر اللہ نے چاہا ، تو اللہ تعالیٰ اسے تمہارے لئے فتح کروا دے گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد خیبر تھی ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ) میرے ساتھ کوئی ایسا شخص نہ روانہ ہو جس کا سواری کا جانور دشوار ہو ( یعنی ق ابومیں نہ آتا ہو ، ) یا وہ ( جانور ) کمزور ہو ، راوی کہتے ہیں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی والدہ کے پاس گئے ، اور بولے : آپ مجھے سامان فراہم کریں ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جنگ میں حصہ لینے کا حکم دیا ہے اس خاتون نے کہا: تم چلے جاؤ گے جبکہ تم یہ بات جانتے ہو کہ میں جب بھی سہولت کی جگہ میں داخل ہوتی ہوں ، تو تم میرے ساتھ ہوتے ہو ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اللہ کے رسول سے پیچھے نہیں رہوں گا ، تو اس خاتون نے اپنی چھاتی کی طرف اشارہ کر کے انہیں اس چیز کا واسطہ دیا کہ جو اس خاتون نے انہیں دودھ پلایا تھا پھر وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم واپس چلی جاؤ تمہارا معاملہ حل ہو جائے گا جب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ پھیر لیا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ نے مجھ سے منہ پھیر لیا ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ تک کوئی بات پہنچی ہے جس کی وجہ سے ایسا ہوا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ہی وہ شخص ہو کہ جسے تمہاری والدہ واسطے دے رہی تھی اور اس نے تمہیں ، جو دودھ پلایا ہے اس کا حوالہ دے رہی تھی ؟ کیا تم میں سے کوئی ایک شخص یہ گمان کرتا ہے کہ جب اس کے ماں باپ موجود ہوں یا ان دونوں میں سے کوئی ایک موجود ہو ، تو ایسی صورت میں وہ شخص اللہ کی راہ میں نہیں ہوتا ؟ ایسا شخص اللہ کی راہ میں ہوتا ہے جب وہ ان دونوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور ان کا حق ادا کرے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اس کے بعد میں دو سال تک اس حال میں رہا کہ میں نے کسی جنگ میں حصہ نہیں لیا یہاں تک کہ میری والدہ کا انتقال ہو گیا ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے یہ پوری حدیث غزوہ خیبر سے متعلق باب میں آگے آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔