مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ اسْتِئْذَانِ الْأَبَوَيْنِ فِي الْجِهَادِ . باب: جہاد میں حصہ لینے کے لئے ماں باپ سے اجازت لینا
حدیث نمبر: 9649
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُبَايِعَكَ عَلَى الْجِهَادِ . قَالَ : " أَحَيٌّ وَالِدَاكَ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْجِيلِيِّ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْحَارِثِيِّ وَكِلَاهُمَا لَمْ أَعْرِفْهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں جہاد پر آپ کی بیعت کرنا چاہتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر تم ان کی بھر پور خدمت کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اپنے استاد محمد بن أحمد جیلی کے حوالے سے أحمد بن ابراہیم حارثی سے نقل کی ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔