وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ أَجْرَأُ النَّاسِ عَلَى مَسْأَلَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْأَعْرَابُ ، وَأَتَاهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَتَى السَّاعَةُ ؟ فَلَمْ يُجِبْهُ بِشَيْءٍ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ ، فَصَلَّى فَأَخَفَّ الصَّلَاةَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ الْأَعْرَابِيُّ ، وَقَالَ : أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ ؟ وَمَرَّ بِهِ سَعْدٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ هَذَا عُمِّرَ حَتَّى يَأْكُلَ عُمْرَهُ ، لَمْ يَبْقَ مِنْكُمْ عَيْنٌ تَطْرِفُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى . ¤ قُلْتُ : لِأَنَسٍ فِي الصَّحِيحِ : " إِنْ يَعِشْ هَذَا حَتَّى يَسْتَكْمِلَ عُمْرَهُ لَمْ يَمُتْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " ، وَهَذَا الْحَدِيثُ أَبْيَنُ ، وَإِنْ كَانَ فِيهِ سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے کے حوالے سے سب سے زیادہ جرات کا مظاہرہ دیہاتی لوگ کیا کرتے تھے ، ایک مرتبہ ایک دیہاتی آپ کے پاس آیا ، اُس نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! قیامت کب آئے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے کوئی جواب نہیں دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختصر نماز ادا کی ، پھر آپ دیہاتی کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا قیامت کے بارے میں سوال کرنے والا شخص کہاں ہے ؟ آپ کے پاس سے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ گزرے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر اس شخص کی طبعی عمر ہوئی ، تو تم لوگوں میں سے کوئی بھی ( اُس وقت تک ) زندہ نہیں رہے گا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت منقول ہے : ” اگر یہ زندہ رہا ، یہاں تک کہ اس کی طبعی عمر مکمل ہوئی ، تو اس کے مرنے سے پہلے قیامت قائم ہو جائے گی“ ۔
یہ روایت زیادہ واضح ہے ، اگرچہ اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن وکیع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔