حدیث نمبر: 963
وَعَنْ نُعَيْمِ بْنِ دَجَاجَةَ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَلِيٍّ إِذْ جَاءَ أَبُو مَسْعُودٍ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : قَدْ جَاءَ فَرُّوخُ فَجَلَسَ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : إِنَّكَ تُفْتِي النَّاسَ ؟ قَالَ : أَجَلْ ،‌ وَأُخْبِرُهُمُ [ السَّاعَةَ ] أَنَّ الْآخَرَ شَرٌّ . قَالَ : فَأَخْبِرْنِي ، هَلْ سَمِعْتَ مِنْهُ شَيْئًا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الْأَرْضِ عَيْنٌ تَطْرِفُ " ، فَقَالَ عَلِيٌّ : أَخْطَأَتِ اسْتُكَ الْحُفْرَةَ ، وَأَخْطَأْتَ فِي أَوَّلِ فُتْيَاكَ ، إِنَّمَا قَالَ ذَاكَ لِمَنْ حَضَرَهُ يَوْمَئِذٍ ، هَلِ الرَّخَاءُ إِلَّا بَعْدَ الْمِائَةِ ؟ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین

نعیم بن دجاجہ بیان کرتے ہیں : میں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : فروخ آ گیا ہے ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم لوگوں کو حکم بیان کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میں انہیں وقت کے بارے میں بتاتا ہوں ، کہ بعد والا وقت زیادہ برا ہو گا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پھر تم مجھے بتاؤ ! کیا تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کوئی بات سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایک سو سال گزرنے کے بعد روئے زمین پر کوئی شخص زندہ نہیں رہے گا “ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے ( مفہوم سمجھنے میں ) غلطی کی ہے اور تم نے اپنے پہلے فتوی میں غلطی کی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ جو لوگ اُس وقت وہاں موجود تھے ( ایک سو سال گزرنے کے بعد اُن میں سے کوئی زندہ نہیں رہے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے ) سہولت ، تو ایک سو سال کے بعد ہی آئے گی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کے رجال بھی ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 963
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 463»