وَعَنْ نُعَيْمُ بْنُ دَجَاجَةَ قَالَ : دَخَلَ أَبُو مَسْعُودٍ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيُّ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ : لَا يَأْتِي مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الْأَرْضِ عَيْنٌ تَطْرِفُ ؟ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الْأَرْضِ عَيْنٌ تَطْرِفُ مِمَّنْ هُوَ حَيٌّ الْيَوْمَ ، وَاللَّهِ إِنَّ رَخَاءَ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ مِائَةِ عَامٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤نعیم بن دجاجہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اُن سے فرمایا : آپ ہی نے یہ بات بیان کی ہے کہ 100 سال گزرنے پر روئے زمین پر موجود کوئی آنکھ جھپکے گی نہیں ( یعنی کوئی زندہ نہیں رہے گا ) حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” ایک سو سال گزرنے پر ، لوگوں میں سے آج جو زندہ ہے ، اُن میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا “ ۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) اللہ کی قسم ! ایک سو سال گزرنے کے بعد اس اُمت میں سہولت ( یا فراخی ) آئے گی ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے ( اپنی ، اپنی مسند میں ) اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔