مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ الرَّأْيِ وَالْخَدِيعَةِ فِي الْحَرْبِ باب: جنگ میں رائے ( کی بنیاد پر کوئی عمل کرنا ) اور ( دشمن کو ) دھوکہ دینا
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا بَعَثَهُ إِلَى غَزْوَةِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ مَنَعَ النَّاسَ أَنْ يُوقِدُوا نَارًا ثَلَاثًا ، قَالَ : فَكَلَّمَ النَّاسُ أَبَا بَكْرٍ عَنْهُ قَالُوا : كَلِّمْهُ لَنَا ، فَأَتَاهُ قَالَ : قَدْ أَرْسَلُوكَ إِلَيَّ ، لَا يُوقِدُ أَحَدٌ نَارًا إِلَّا أَلْقَيْتُهُ فِيهَا ثُمَّ لَقُوا الْعَدُوَّ فَهَزَمُوهُمْ ، فَلَمْ يَدَعْهُمْ يَطْلُبُوا الْعَدُوَّ فَلَمَّا رَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْبَرُوهُ الْخَبَرَ وَشَكَوْا إِلَيْهِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانُوا قَلِيلًا فَخِفْتُ أَنْ يَطْلُبُوا الْعَدُوَّ وَخِفْتُ أَنْ يَكُونَ لَهُمْ مَادَّةٌ فَيَعْطِفُونَ عَلَيْهِمْ ، فَحَمِدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمْرَهُ .
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جنگ ذات سلاسل کی طرف بھیجا تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو تین دن تک آگ جلانے سے منع کیے رکھا راوی بیان کرتے ہیں : لوگوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس بارے میں بات چیت کی اور یہ کہا: کہ آپ ان سے ہمارے بارے میں بات چیت کریں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ بولے : لوگوں نے آپ کو میری طرف بھیجا ہے ! جو شخص آگ جلائے گا ، میں اُسے اس ( آگ ) میں ڈال دوں گا ، اس کے بعد ان لوگوں کا دشمن سے مقابلہ ہوا ان لوگوں نے دشمن کو پسپا کر دیا پھر سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے انہیں دشمن کا پیچھا کرنے کی اجازت بھی نہیں دی ، جب وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس آئے تو لوگوں نے آپ کو اس بارے میں بتایا اور آپ کو اس بارے میں شکایت کی انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ لوگ کم تھے ، مجھے اندیشہ ہوا کہ یہ دشمن کا پیچھا کریں گے اور مجھے یہ بھی اندیشہ ہوا کہ دشمن کے پاس کمک ہو اور وہ ان پر پلٹ کر حملہ کر دیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے فیصلے کی تعریف کی ۔